مفتی تقی عثمانی کا یوم پیدائش
October 27, 1943
مفتی محمد تقی عثمانی عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ آپ کا شمار عالم اسلام کی چند چوٹی کی علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ آپ اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ کے نائب صدر اور جامعہ دارلعلوم، کراچی کے نائب مہتمم بھی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ آٹھ اسلامی بینکوں میں بحیثت مشیر کام کر رہے ہیں۔
مفتی محمد تقی احمد عثمانی تحریک پاکستان کے کارکن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی کے سب سے چھوٹے فرزند اور موجودہ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کی پیدائش27 اکتوبر 1943ء کو ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبہ دیوبند میں ہوئی۔
…
محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا
قدم ہیں راۂ اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہو جانا
یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا
بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا
نظر سے دور رہ کر بھی تقی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا
….
معصوم تھا نہ وقفِ سجود و دعا تھا میں
خوبی مری یہی تھی کہ اہلِ خطا تھا میں
اب تک میں اپنی ذات کے پنجرے میں بند ہوں
پل بھر کو تیری یاد سے غافل ہوا تھا میں
ابلیس ہے مرے لئے اک امتحاں تو کیا
ابلیس کے لئے بھی تو ایک ابتلا تھا میں
چل چل کے تھک چکے ہیں قدم پھر بھی اب تلک
ٹھیک اس جگہ کھڑا ہوں جہاں سے چلا تھا میں
حیرت نہ کر بدن کو مرے چور دیکھ کر
ان چوٹیوں کو دیکھ جہاں سے گرا تھا میں
اس لغزشِ حسیں پہ فدا لاکھ منزلیں
اپنا وجود کھو کے تمھیں پا گیا تھا میں
…………………………………………
