ایک ہی نقش سے سو عکس نمایاں ہوتے
کچھ سلیقے ہی سے الفاظ کو برتا ہوتا
….
راج نرائن راز کا یومِ پیدائش
27 اکتوبر 1930
منتخب کلام
کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو
مطلب کا میرے جیسے کوئی قافیا نہ ہو
گلدان میں سجا کے ہیں ہم لوگ کتنے خوش
وہ شاخ ایک پھول بھی جس پر نیا نہ ہو
ہر لمحہ وقت کا ہے بس اک غنچۂ بخیل
مٹھی جو اپنی بند کبھی کھولتا نہ ہو
اب لوگ اپنے آپ کو پہچانتے نہیں
پیش نگاہ جیسے کوئی آئینا نہ ہو
وحشی ہوا کی روح تھی دیوار و در میں رات
جنگل کی سمت کوئی دریچہ کھلا نہ ہو
…
کوئی پتھر ہی کسی سمت سے آیا ہوتا
پیڑ پھل دار میں اک راہ گزر کا ہوتا
اپنی آواز کے جادو پہ بھروسا کرتے
مور جو نقش تھا دیوار پہ ناچا ہوتا
ایک ہی پل کو ٹھہرنا تھا منڈیروں پہ تری
شام کی دھوپ ہوں میں کاش یہ جانا ہوتا
ایک ہی نقش سے سو عکس نمایاں ہوتے
کچھ سلیقے ہی سے الفاظ کو برتا ہوتا
لذتیں قرب کی اے رازؔ ہمیشہ رہتیں
شاخ صندل سے کوئی سانپ ہی لپٹا ہوتا
…………………………………
