دکھ کے دریا میں اترنا ہے مجھ کو اک صدف لے کے ابھرن…


دکھ کے دریا میں اترنا ہے مجھ کو
اک صدف لے کے ابھرنا ہے مجھ کو
…..
پروین فنا سید کا یوم وفات
(پیدائش: 3 ستمبر 1936ء – وفات: 27 اکتوبر 2010ء)
——
منتخب کلام
——
اب تو راہوں کا تصور ہے نہ منزل کی تلاش
تم مری زیست کو ویرانہ بنا دو بھی تو کیا
——
بھنور میں گھرنے کا احساس کم نہ تھا لیکن
اِسے کچھ اور بڑھایا کنارے والوں نے
——
میں آج اپنا پتہ پوچھتی ہوں اِک اِک سے
مرا وجود ہی شاید بچھڑ گیا مجھ سے
——
جب درد کا ہر روپ عیاں ہوتا ہے
انسان پہ یزداں کا گماں ہوتا ہے
——
جس کو تم جسم سمجھتے ہو ، فقط جسم نہ تھا
روح کی آگ دبی تھی اسی پتھر میں کہیں
——
چیخوں کہ چپ رہوں کہ پکاروں لہو لہو
اے شہر کیا ہوئی ، تری مٹی کی آبرو
——
بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں
یاد آ جائے تو خود اپنا تماشا دیکھوں
مسکراتی ہوئی ان آنکھوں کی شادابی میں
میں تری روح کا تپتا ہوا صحرا دیکھوں
اتنی یادیں ہیں کہ جمنے نہیں پاتی ہے نظر
بند آنکھوں کے دریچوں سے میں کیا کیا دیکھوں
وقت کی دھول سے اٹھنے لگے قدموں کے نقوش
تو جہاں چھوڑ گیا ہے وہی رستہ دیکھوں
یوں تو بازار میں چہرے ہیں حسیں ایک سے ایک
کوئی چہرہ تو حقیقت میں شناسا دیکھوں
——
جدھر نظریں اٹھائیں تیرگی ہے
ہماری زندگی کیا زندگی ہے
یہ منزل ہے تو اے اصحاب منزل
یہ میری روح میں کیا تشنگی ہے
یہ غم کی انتہا ہے یا وفا کی
نظر میں پیاس ہونٹوں پر ہنسی ہے
یہ دل میں درد چمکا یا کوئی یاد
یہ کیسی آگ کی سی روشنی ہے
خرد کی انتہا مجھ سے نہ پوچھو
جب اس کی ابتدا دیوانگی ہے
اسے خطرہ ہے صرف اک فصل گل کا
خزاں کو کس قدر آسودگی ہے
……………………….