کہتے ہیں محبت ایک دروازہ ہے… مگر کم لوگ جانتے ہیں …
کہتے ہیں محبت ایک دروازہ ہے… مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ ہر دروازہ جنت کی طرف نہیں کھلتا، کچھ دروازے آہستہ آہستہ انسان کے اندر ایک اندھیرا بھی اُتار دیتے ہیں۔
میں نے ایک عورت کو دیکھا…
وہ کسی وقت روشنی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خواب تھے، اس کے لہجے میں دعا تھی۔ اس نے جب اس مرد کا ہاتھ تھاما تو وہ محبت نہیں، ایک یقین تھام رہی تھی۔ وہ یقین کہ یہ ہاتھ اسے سنبھالے گا، یہ سایہ اسے دھوپ سے بچائے گا۔
مگر زندگی ہمیشہ وعدوں کی پابند نہیں ہوتی۔
شروع کے دن واقعی کسی وجد کی طرح ہوتے ہیں… جیسے کائنات نے صرف تمہارے لیے ساز چھیڑا ہو۔ مگر پھر ایک دن تم دیکھتے ہو کہ وہی شخص جسے تم نے سہارا سمجھا تھا، خود سہارا ڈھونڈ رہا ہے۔ وہی درخت، جس کی چھاؤں میں تم نے پناہ لی تھی، اپنی ہی جڑوں کے بوجھ سے ہلنے لگتا ہے۔
اور پھر… عورت بدلتی نہیں، جھکنے لگتی ہے۔
یہ جھکنا صرف جسم کا نہیں ہوتا، یہ روح کا جھکنا ہوتا ہے۔
وہ اپنے خوابوں کو تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہے… اپنی خواہشوں کو آہستہ آہستہ خاموش کرتی ہے… اور ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے وجود میں مہمان بن چکی ہے۔
ہماری دنیا میں عورت کو صبر سکھایا جاتا ہے،
مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ صبر اور خود کو مٹا دینے میں ایک باریک سا فرق ہوتا ہے۔
وہ مرد… جو زندہ ہے مگر احساس سے خالی،
وہ بوجھ بنتا نہیں… بوجھ اُتارا جاتا ہے۔
اور اکثر یہ بوجھ عورت اپنے کندھوں پر خاموشی سے رکھ لیتی ہے، اس خوف سے کہ کہیں گھر ٹوٹ نہ جائے۔
مگر سچ یہ ہے…
گھر دیواروں سے نہیں، توازن سے بنتے ہیں۔
خدا نے مرد کو سایہ بنایا تھا،
مگر سایہ اگر روشنی کو ہی نگلنے لگے تو وہ سایہ نہیں رہتا…
وہ اندھیرا بن جاتا ہے۔
اور اندھیرے میں جینا… عبادت نہیں، اذیت ہے۔
محبت کے اصول شاید کتابوں میں چالیس ہوں،
مگر زندگی ایک اور اصول سکھاتی ہے:
“وہ رشتہ جو تمہیں سہارا دینے کے بجائے تمہاری کمر توڑنے لگے،
وہ محبت نہیں… تمہاری خاموش قربانی ہے۔”
اور قربانیاں…
ہمیشہ مقدس نہیں ہوتیں۔
