منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

کچھ اداسیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کسی بچھڑنے سے نہی…


کچھ اداسیاں ایسی بھی ہوتی ہیں
جو کسی بچھڑنے سے نہیں،
بلکہ بہت کچھ جان لینے سے جنم لیتی ہیں—

جب آنکھیں صرف دیکھتی نہیں رہتیں،
بلکہ حقیقت کو پہچاننے لگتی ہیں،
جب دنیا اپنے سارے رنگ اتار کر
ایک سادہ، بے آواز سچ میں بدل جاتی ہے۔

تب محسوس ہوتا ہے
کہ زندگی کوئی عظیم داستان نہیں،
بس لمحوں کی ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہے—
چھوٹے، بے نام، بے معنی سے لمحے،
جو آتے ہیں… اور خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔

محبت بھی تب کسی کہانی کی شہزادی نہیں رہتی،
وہ ایک نرم سی کپکپاہٹ بن جاتی ہے—
نازک، عارضی،
جیسے ہاتھوں میں ٹھہرا ہوا پانی
جو جتنا تھامو، اتنا ہی پھسل جائے۔

اور خوشی…
وہ تو جیسے کسی اجنبی روشنی کی جھلک ہو،
جو پل بھر کو دل پر اترتی ہے
اور پھر کہیں کھو جاتی ہے—
ایسی کہ جسے چاہ کر بھی
ہم کبھی اپنا نہیں بنا سکتے۔

یہ سب جان لینے کے بعد
دل کے اندر ایک گہری خاموشی اُترتی ہے،
ایک ایسی تنہائی
جو ہجوم میں بھی ساتھ نہیں چھوڑتی—

جیسے انسان دنیا سے نہیں،
خود اپنی ذات سے بھی
آہستہ آہستہ کٹنے لگے۔

اور پھر…
وہی جان لینے کی سزا باقی رہتی ہے—
ایک نرم، مسلسل اداسی،
جو مسکراہٹوں کے پیچھے بھی سانس لیتی ہے۔