کُچھ عِشق کِیا کُچھ کام کِیا وہ لوگ بہت خوش قِسمَت…


کُچھ عِشق کِیا کُچھ کام کِیا
وہ لوگ بہت خوش قِسمَت تھے
جو عِشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جِیتے جی مَصرُوف رہے
کُچھ عِشق کِیا کُچھ کام کیا
کام عِشق کے آڑے آتا رہا
اور عِشق سے کام اُلجھتا رہا
پِھر آخِر تنگ آکر ہم نے
دونوں کو ادُھورا چھوڑ دیا۔۔۔!

فیض احمد فیضؔ