پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

کون ڈوبے گا کسے پار اترنا ہے ظفرؔ فیصلہ وقت کے در…


کون ڈوبے گا کسے پار اترنا ہے ظفرؔ
فیصلہ وقت کے دریا میں اتر کر ہوگا
…..
ظفر علی احمد کا یومِ وفات
August 16, 2001

پیدائش : 13 Nov 1926, راول پنڈی, پاکستان
وفات : 16 Aug 2001

نام ظفر علی احمد، قلمی نام احمد ظفر اور ظفر تخلص تھا۔۱۳؍نومبر۱۹۲۶ء کو راول پنڈی میں پیدا ہوئے۔ملازمت کے سلسلے میں راول پنڈی میں مقیم تھے۔۱۶؍اگست ۲۰۰۱ء کو گوجرانوالہ میں انتقال کرگئے۔ یہ پنجابی میں بھی شاعری کرتے تھے۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:194
…
جو ریزہ ریزہ نہیں دل اسے نہیں کہتے
کہیں نہ آئینہ اس کو جو پارہ پارہ نہیں
…..
ان سے میری بات نہ پوچھ
ان سے میری ان بن ہے
…
انگ انگ سے رنگ رنگ کے پھول برستے دیکھے کون
رنگ رنگ سے شعلے برسے کیسے برسے سوچے کون
…..
کیوں تیرگی سے اس قدر مانوس ہوں ظفرؔ
اک شمع راہ گزار کہ سحر تک جلی بھی ہے
…..
میں مکیں ہوں نہ مکاں شہر محبت کا ظفرؔ
دل مسافر نہ کسی غیر کے گھر جائے گا
…
کیا پتا کس جرم کی کس کو سزا دیتا ہوں میں
رنگ سا اک باندھتا ہوں پھر بھلا دیتا ہوں میں

اپنے آگے اب تو میں خود بھی ٹھہر سکتا نہیں
سامنا ہوتے ہی چٹکی میں اڑا دیتا ہوں میں

معجزہ اگلا تو اب شاید پرانا ہو چلا
دیکھنا اب کے کوئی چکر نیا دیتا ہوں میں

مجھ سے آگے بھی نکل جانا بہت مشکل نہیں
آج کل آہستہ رو ہوں راستہ دیتا ہوں میں

شور سا اٹھتا ہے اور اٹھتے ہی دب جاتا ہے اب
حرف سا لکھنے سے پہلے ہی مٹا دیتا ہوں میں

تاکہ میری صلح جوئی کو لگے کچھ بھاؤ بھی
ہر نئے فتنے کو در پردہ ہوا دیتا ہوں میں

بات بھی سنتا نہیں ہوں وصل میں دل کی ظفرؔ
ایسے خر‌ مستوں کو محفل سے اٹھا دیتا ہوں میں