کوئی خوشبو جیسی بات کرو ، کوئی بات کرو بارش نے دری…


کوئی خوشبو جیسی بات کرو ، کوئی بات کرو
بارش نے دریچے پہ آکےدستک دی ہے ہر سُو بھیگے پیڑوں کی خوشبو پھیلی ہے
تم کوئی انوکھی بات کرو ، کوئی بات کرو
ہے سونا بن کے پھیلی دھوپ نظاروں پر وہ چاندی جیسی برف جمی کوہساروں پر
تم کوئی سُہانی بات کرو ، کوئی بات کرو
ساحل پہ کہیں جب لہریں جھاگ اڑاتی ہوں جب رنگیں بہاریں پھولوں کو لہراتی ہوں
کوئی میٹھی پیاری بات کرو ، کوئی بات کرو
پھیلی ہو فضا میں خون کی بو ، بارود کی بو لوگ اپنے پرائے غم میں بہاتے ہوں آنسو
دل تھامنے والی بات کرو ، کوئی بات کرو
…..
پروفیسر حسن اکبر کمال کی پیدائش
February 14, 1946

سیدحسن اکبر 14 فروری 1946ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سیّد ثابت حُسین تھا ۔[1] تقسیم ہند کے فوراً بعد ان کے والدین پاکستان آ گئے۔ ان کے والدریلوے میں اپنی ملازمت کے سبب ملک کے مختلف علاقوں میں رہے۔ بقول حسن اکبرکمال انہوں نے بہاولپور ، خان پور ، نوشکی اور سکھر جیسے علاقوں میں قدرت کے نظاروں کو بہت قریب پایا جس سے شاعری کے ذوق کو مہمیز ملی اور چودہ پندرہ برس کی عمر سے شاعری شروع کر دی ۔اسکول اور کالج کی تعلیم کے بعد انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا ۔ اور تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ گورنمنٹ کالج، رحیم یارخاں ، گورنمنٹ اسلامیہ کالج، سکھر اور گورنمنٹ دہلی کالج، کراچی کے شعبہ انگریزی میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔1970ء میں انہیں پی ٹی وی کے لیے پروڈیوسر کی پوسٹ کی آفر بھی ہوئی تاہم انہوں نے تب تک دہلی کالج ، کراچی میں لیکچرر شپ جائن کر لی تھی ۔[2] جہاں سے وہ 2006 میں شعبہ انگریزی کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ وہ غزل، گیت نگاری اورنعت، سلام و منقبت نگاری میں یکساں دستر س رکھتے تھے۔
شعر
کمال بادِ خزاں اوڑھ کے ہیں خوابیدہ
وہ پیڑ جن کو نئی کونپلوں کی حسرت تھی
….