کنگن . کاش مَیں تیرے حَسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا تُو ب…


کنگن
.
کاش مَیں تیرے حَسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تُو بڑے پیار سے چائو سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
مَیں ترے ہاتھ کی خُوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی مَیں حِدّت سے دہک سا جاتا
رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی
.
مرمریں ہاتھ کا اِک تکیہ بنایا کرتی
مَیں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زُلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا
جب بھی تو بندِ قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو تِرے حُسن سے خیرہ کرتا
مُجھ کو بے تاب سا رکھتا تِری چاہت کا نشہ
مَیں تِری رُوح کے گُلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش مَیں تیرے حَسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
.
وصی شاہ