کشمیر ۔ ۔ اور عید ! اے اڑتی ہوئی خاکِ چمن ،…
کشمیر ۔ ۔ اور عید !
اے اڑتی ہوئی خاکِ چمن ، عید مبارک
اے سہمی ہوئی ارضِ وطن ، عید مبارک
مقتول اُجالوں کا لہو دیکھنے والو
لو چاند سے کہتا ہے گہن ، عید مبارک
خیرات کے کاسے میں گلے مل گئے تینوں
پیروں کی تھکن ، دل کی جلن ، عید مبارک
ہر روز نیا ظلم ، نیا خون زمیں پر
اب ہوتی نہیں چرخِ کہن ! عید مبارک
زندانِ اساطیر میں ڈالے گئے لوگو
کہتی ہے خیالوں کی گھٹن عید مبارک
دیکھا ہے بہت دور تلک آگ کا منظر
کس دل سے کہوں ، اہلِ وطن عید مبارک
شہزاد نَیّرؔ
اِنتِخاب
سفیدپوش