کس کی آواز کان میں آئی
دُور کی بات دھیان میں آئی
ایسی آزاد رُوح اِس تن میں
کیوں پرائے مکان میں آئی
آپ آتے رہے بُلاتے رہے
آنے والی اِک آن میں آئی
ہائے کیا کیا نگاہ بھٹکی ہے
جب کبھی اِمتحان میں آئی
یہ کنارہ چلا کہ ناو چلی
کہیے کیا بات دھیان میں آئی
عِلم کیا عِلم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گمان میں آئی
آپ آتے رہے بُلاتے رہے
آنے والی اِک آن میں آئی
جان لیوا ہے یہ چڑھی تیوری
یہ کشِش کس کمان میں آئی
بات ادُھوری مگر اثر دُونا
اچّھی لُکنت زبان میں آئی
آنکھ نیچی ہُوئی ارے ! یہ کیا؟
کیوں غرَض درمیان میں آئی
مَیں پیَمبر نہیں یگانہؔ ہُوں
اِس سے کیا کَسر شان میں آئی
مراز یاس یگانہؔ چنگیزی
انتخاب
سفیدپوش
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔