کسی کو حشر تک رہنا نہیں ہے
زیادہ ہمیں کچھ کہنا نہیں ہے
….
مظفر حنفی کا یوم وفات
(پیدائش: 1 اپریل 1936ء – وفات: 10 اکتوبر 2020ء)
——
منتخب کلام
——
شریعت نہ فرما ، تصوف نہ کر
محبت میں گردن کٹا ، اُف نہ کر
——
بلا سے بجھے یا بڑھے تشنگی
سمندر کو آداب کرتے رہو
——
عشق کرنا کوئی ضروری نہیں
شعر کہہ لیں گے نازنینوں پر
——
منزل ونزل ہم کیا جانیں ، چلنا ہے سو چلتے ہیں
ہمت چور ، ڈگر انجانی ، ڈگمگ پاؤں ، پھسلتی ریت
——
کچھ قدر نہیں آج کی دنیا میں ہماری
ہیرا ہیں مگر غم کی انگوٹھی میں جڑے ہیں
——
ایسے میں کیا پیار پنپتا ، پانی میں کیا گلتی رہت
تو گہرے ساگر کا موتی ، میں ساحل کی جلتی ریت
——
ٹھپہ لگا ہوا ہے مظفرؔ کے نام کا
اس کا کوئی بھی شعر کہیں سے بھی اٹھا کے دیکھ
——
ملا جو سایہ تو دیوار آ پڑی سر پر
جہاں کھلا تھا کوئی در ، بلا نکلتی تھی
——
فنا کی چار دیواری یہاں بھی ہے وہاں بھی ہے
مکینوں کے لیے آسیب کس گھر میں نہیں رہتا
——
اس وقت جب طلسمِ فلک ٹوٹنے کو تھا
ایسا ہوا کہ مجھ کو بلانے لگی زمیں
——
پھول میلا سا لگا کر مرے گھر آنگن میں
در و دیوار پہ وحشت کا بیاباں لکھنا
——
ہمارے شہر میں انصاف کا یہ عالم ہے
کہ تیر کھا کے بھی کوئی دہائی دیتا نہیں
——
ہر چند کہ آئین میں تحریر نہیں ہے
آزادیٔ گفتار پہ تالے ہیں عزیزو
——
کھل گئے پھول لفافے پہ ترے نام کے گرد
رقص کرتا ہے قلم زیر و زبر میں کیسے
——
سائے مچل رہے ہیں چراغوں کی گود میں
سمجھے تھے ہم کہ گھر سے اندھیرا نکل گیا
——
ہونے لگا ہے ماں کی دعا میں اثر غلط
بیٹی تو گھر میں بیٹھی ہے بیٹا نکل گیا
——
ایسے میں گھر سے باہر ہے ، یا گھر میں بیٹے کا فرض
باغی باپ کہیں زنداں میں ، ماں دیوانی گھر میں ہے
——
اوپر بوڑھے ہاتھ اٹھائے سوکھتے تھے دو چار درخت
پہلے ان پر بجلی ٹوٹی ، ویسے بادل برسا بھی
——
بچوں کا نہیں ذکر کہ تہذیب و ادب سے
بیگانہ ہیں کچھ اہلِ ادب تک مرے مولا
——
یہ بات دشمنوں سے نہیں دوستوں سے پوچھ
یکلخت ہم پہ بند ہوا آب و دانہ کیوں
——
قریب آؤ کہ مہندی رچی ہتھیلی پر
ستارہ دیدۂ نمناک سے اتارا جائے
——
کیا دیر ہے مجھ کو بھی اجازت ہو رجز کی
حرف آنے لگا نام و نسب تک مرے مولا
——
سرخ آندھی نے بڑا شور مچایا کل رات
گھر بنائے ہیں پرندوں نے شجر میں کیسے
——
بس کہہ دیا ہم نہ چلیں گے کسی کے ساتھ
پیچھے پلٹ کے دیکھ رہا ہے زمانہ کیوں
——
اِک دل میں نہاں سیکڑوں غم رکھتا ہوں
شعلہ ہوں مگر آنکھوں کو نم رکھتا ہوں
دنیا مرے زخموں پہ چھڑکتی ہے نمک
مجبور ہوں کاغذ پہ قلم رکھتا ہوں
——
موسم کے تقاضے پہ ذرا سوچو نا
انجام ہے مطلع کا مکدر ہونا
کھانے کی کوئی چیز اُگا لو پہلے
پھر شوق سے کھیتوں میں ستارے بونا
——
یوں ہی شعلے کو ہوا دیتا جا
اپنے ہونے کا پتہ دیتا جا
بے رُخی یوں نہ برت کام کے بعد
کچھ نہیں ہے تو دعا دیتا جا
چوٹ دینے میں بھی کچھ لگتا ہے
تو بھی کچھ نامِ خدا دیتا جا
سنگریزوں کا بھی حق ہے تجھ پر
خون ، اے آبلہ پا دیتا جا
سربلندی تو مری فطرت ہے
سر جھکاتا ہوں سزا دیتا جا
پھول ہاتھ آئیں تو رکھ دامن میں
اور کانٹوں کو قبا دیتا جا
کوئی دروازہ تو وا ہو گا ہی
سوچ لے اور صدا دیتا جا
سارے خط میں تجھے لوٹا دوں گا
تو مجھے خواب مرا دیتا جا
تلخ لہجہ ہے غزل کی خوشبو
شعر کو رنگ نیا دیتا جا
——
مت پوچھئیے کہ راہ میں بھٹکا کہاں کہاں
روشن میں میرے نقشِ کفِ پا کہاں کہاں
تِریاک اپنے زہر کا اپنے ہی پاس تھا
ہم ڈھونڈتے پھرے ہیں مداوا کہاں کہاں
لمحوں کے آبشار میں اک بلبلہ ہوں میں
کیا سوچنا کہ جائے گا جھرنا کہاں کہاں
تکیے پہ محوِ خواب ، تہہِ تیغ ہے کہیں
لَو دے رہا ہے شعر ہمارا کہاں کہاں
پَر سوختہ ہیں ، رات بڑی ، فاصلے بہت
لاکھوں چراغ ، ایک پتنگا کہاں کہاں
سائے میں بیٹھنے کی جگہ سوچتے ہیں ہم
پہنچا نہیں درخت کا سایا کہاں کہاں
چُوڑی کا ایک ریزہ چُبھا تھا کہیں اُسے
میں ایک زخم چُوم رہا تھا کہاں کہاں
تھے ہر صدف میں اشکِ ندامت بھرے ہوئے
کاٹے گئے ہیں دستِ تمنا کہاں کہاں
اک گردِباد ہے کہ مظفرؔ مری انا
مجھ کو اُڑائے گا یہ بگولا کہاں کہاں
——
کچھ نہ کچھ آنکھ کے محور سے نکل آئے گا
اور منظر پسِ منظر سے نکل آئے گا
سر بکف موج کے رہوار پہ پھرتا ہے ، حباب
ٹوٹ جائے تو سمندر سے نکل آئے گا
یوں ہی لیٹے رہو وِسواس کی چادر اوڑھے
نیند کا سایہ اسی ڈر سے نکل آئے گا
روشنی جمع کرو رات کٹے یا نہ کٹے
کچھ اُجالا تو مرے گھر سے نکل آئے گا
نشۂ زہر اترتے ہی سویرے ہر شخص
کینچلی چھوڑ کے بستر سے نکل آئے گا
آپ کیوں اُس کی روانی میں مخل ہوتے ہیں
خون پھر خون ہے پتھر سے نکل آئے گا
ایک تصویر بناتا ہوں کسی کی بھی ہو
نقش میرا اسی پیکر سے نکل آئے گا
دیکھ اس جذبۂ پامال کو آسودہ کر
ورنہ یہ سینگ ترے سر سے نکل آئے گا
کوئی زحمت نہ کرے غازۂ فردا کے لیے
رنگ اشعارِ مظفرؔ سے نکل آئے گا
——
پھر برف کی چوٹی سے اُگی آگ مرے بھائی
زنجیر ہلاتی ہے ہوا ، جاگ مرے بھائی
فردوس کی تخلیق میں اُلجھے ہیں ترے ہاتھ
لپٹا ہے مرے جسم سے اِک ناگ مرے بھائی
پرچھائیاں دم سادھے ہوئے رینگ رہی تھیں
گرتے ہوئے پتوں نے کہا بھاگ مرے بھائی
فرصت ہی کسے ہے کہ سنے پیار کے نغمات
تو نے بھی کہاں چھیڑ دیا راگ مرے بھائی
آ اور قریب اور قریب اور قریب آ
باقی نہ رہے اور کوئی لاگ مرے بھائی
کہتے ہیں درِ توبہ ابھی بند نہیں ہے
اس بات پہ بوتل سے اُڑے کاگ مرے بھائی
کل تک تو مظفرؔ نے غزل اوڑھ رکھی تھی
اب کون سمیٹے گا یہ کھڑاگ مرے بھائی
——
جتنی متاعِ درد تھی ہم نے سمیٹ لی
چادر پھر اس کے دستِ کرم نے سمیٹ لی
لازم ہیں برگ و بار پہ لاؤں کہاں سے میں
ساری نمی تو دیدۂ نم نے سمیٹ لی
چلنے میں منہمک ہوں مجھے کچھ خبر نہیں
کتنی زمین نقشِ قدم نے سمیٹ لی
جب خاکدانِ دل سے رہا کر دیا گیا
سب کائنات آتشِ غم نے سمیٹ لی
شہہ رگ مری کُھلی تھی سخی ہاتھ کی طرح
جو بوند گر پڑی وہ قلم نے سمیٹ لی
لوگوں کے پاس دولتِ کونین ہے تو ہو
مٹھی میں ریت میرے بھرم نے سمیٹ لی
بے شک جہاں نمائی کرے گی مری غزل
جاگیر تھی کہ ساغرِ جم نے سمیٹ لی
……………………
