ابا کے انتقال کے بعد پہلی بار احساس ہوا کہ انسان کی عمر بڑھنے اور اس کے بڑے ہو جانے میں فرق ہوتا ہے۔
ابا زندہ تھے تو میں چالیس برس کا ہو کر بھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے آواز دیتا تھا، ’’ابا، کہاں ہیں؟‘‘
اور پھر کسی نہ کسی کمرے سے ان کی آواز آتی تھی، کبھی قدرے بلند، کبھی تھکی ہوئی، مگر ہمیشہ ایسی کہ لگتا تھا، گھر میں کوئی ہے جس کے ہوتے ہوئے مجھے کسی بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔
ان کے جانے کے بعد گھر وہی تھا۔ دروازے وہی، دیواریں وہی، صحن میں دھوپ بھی پہلے کی طرح اترتی تھی۔ بس اب گھر آ کر کسی کو آواز دینے کا خیال نہیں آتا تھا۔
امی کے جانے پر پہلی بار یتیمی کا مطلب سمجھ آیا تھا، ابا کے جانے پر معلوم ہوا کہ بعض اوقات آدمی اپنے اندر کا آخری بچہ بھی کھو دیتا ہے۔
اس کے بعد میں واقعی بڑا ہو گیا۔
گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو مجھے ڈاکٹر کو فون کرنا پڑتا۔ کسی بچے کی فیس دینی ہوتی تو میں حساب کرتا۔ کوئی مشکل فیصلہ درپیش ہوتا تو دیر تک سوچتا رہتا۔ کبھی بے اختیار دل چاہتا کہ ابا کو فون کر کے پوچھوں، ’’آپ ہوتے تو کیا کرتے؟‘‘
پھر یاد آتا کہ اب اس سوال کا جواب دینے والا کوئی نہیں۔
ایک روز میرا بیٹا اسکول سے واپس آیا تو بہت اداس تھا۔ کسی بچے نے اسے سب کے سامنے ڈانٹ دیا تھا۔ وہ بستہ پھینک کر میرے پاس آیا اور میرے سینے سے لگ گیا۔
میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، ’’کوئی بات نہیں، بیٹا۔ میں ہوں نا۔‘‘
وہ مطمئن ہو کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
مگر میں وہیں بیٹھا رہا۔
میرے کانوں میں اپنی ہی آواز گونج رہی تھی۔
میں ہوں نا۔
اچانک مجھے ابا یاد آئے۔ بچپن میں جب بھی کوئی چیز مجھے ڈرا دیتی تھی، میں ان کے پیچھے جا کھڑا ہوتا تھا۔ وہ اکثر میری بات پوری سنے بغیر ہی کہہ دیتے، ’’اچھا، چھوڑو۔ میں دیکھ لوں گا۔‘‘
مجھے تب کیا معلوم تھا کہ ایک دن میں بھی یہی الفاظ کہوں گا، مگر میرے پیچھے کھڑے ہونے کے لیے کوئی نہیں ہوگا۔
اب سمجھ آتا ہے کہ باپ ہونا صرف بچوں کی ذمہ داری اٹھانا نہیں۔ کبھی کبھی اس کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے اندر روتے ہوئے بچے کو خاموش کر کے دوسروں کو تسلی دو۔
کچھ دن بعد میرے بیٹے نے ہنستے ہوئے ایک بات کہی۔ اس کا سر ذرا سا ایک طرف جھکا، آنکھیں سکڑیں اور ہونٹوں پر وہی مخصوص سی مسکراہٹ آ گئی جو ابا کے چہرے پر آیا کرتی تھی۔
میں چونک گیا۔
چند لمحوں کے لیے مجھے یوں لگا جیسے وقت نے کسی بند دروازے کو ذرا سا کھول دیا ہو۔
میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ کچھ پوچھ رہا تھا، مگر میری آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی ایک معمولی سی مسکراہٹ نے میرے اندر کتنی پرانی دنیا آباد کر دی ہے۔
اس رات میں نے ابا کو خواب میں دیکھا۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، بالکل ویسے ہی جیسے بچپن میں بیٹھا کرتا تھا۔
میں نے ان سے بہت سی باتیں کرنا چاہیں۔ اپنے مسائل، اپنی تھکن، وہ سارے فیصلے جن میں مجھے ان کی رائے درکار تھی۔
مگر خواب میں بھی کچھ کہہ نہ سکا۔
وہ بس مجھے دیکھ کر مسکرائے۔
صبح آنکھ کھلی تو کمرہ خالی تھا۔ میں دیر تک بستر پر بیٹھا رہا۔ پھر اٹھا، وضو کیا اور ان کے لیے دعا کی۔
شاید محبت کا ایک نام یہ بھی ہے کہ جن ہاتھوں نے کبھی ہمارے لیے دعا کی تھی، ایک دن ہم انہی ہاتھوں کے بغیر ان کے لیے دعا کرنے لگتے ہیں۔
اب میں جان گیا ہوں کہ والدین کے چلے جانے سے صرف دو رشتے ختم نہیں ہوتے۔ ہمارے اندر ایک پوری پناہ گاہ اجڑ جاتی ہے۔ وہ جگہ جہاں ہم دنیا سے ہار کر بھی واپس جا سکتے تھے، جہاں ہماری ناکامیاں ہمیں چھوٹا نہیں کرتی تھیں، جہاں ہماری عمر نہیں، ہماری ضرورت دیکھی جاتی تھی۔
پھر ایک دن ہم خود وہ پناہ گاہ بن جاتے ہیں۔
اپنے بچوں کے لیے، اپنے گھر والوں کے لیے، ان لوگوں کے لیے جو ہمیں دیکھ کر یقین کرتے ہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اور شاید یہی زندگی کا سب سے خاموش دکھ ہے کہ جس وقت ہم دوسروں کے لیے مضبوط ہوتے ہیں، اسی وقت ہمارے اندر کا ایک حصہ کسی اپنے کی آواز سننے کے لیے ترس رہا ہوتا ہے۔
آج بھی کبھی کوئی مشکل آتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ ابا ہوتے۔ کبھی کسی خوشی پر خیال آتا ہے کہ امی کو بتاؤں۔ کبھی کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس پر جی چاہتا ہے کہ ان دونوں کے سامنے بیٹھ کر بے فکری سے ہنسوں۔
مگر اب میں جانتا ہوں کہ کچھ محرومیاں پوری نہیں ہوتیں، صرف انسان ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔
اور کچھ محبتیں قبر میں دفن نہیں ہوتیں۔
وہ ہمارے لہجے میں زندہ رہتی ہیں، ہمارے فیصلوں میں، ہماری دعاؤں میں، ہمارے بچوں کی مسکراہٹوں میں اور ان لفظوں میں جو ہم انجانے میں اپنے والدین ہی کی طرح بولنے لگتے ہیں۔
کبھی کبھی میں اپنے بیٹے کو سوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دیر تک بیٹھا رہتا ہوں۔
وہ گہری نیند میں ہوتا ہے۔ اسے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے سرہانے بیٹھا آدمی اس وقت صرف اس کا باپ نہیں، کسی کا بیٹا بھی ہے۔
ایک ایسا بیٹا جس کے پاس اب اپنے باپ کے پاس لوٹ جانے کا کوئی راستہ نہیں۔
سوائے دعا کے۔
اور یاد کے۔
اور اس محبت کے، جو انسان کو قبر تک رخصت کرنے کے بعد بھی اس کے اندر زندہ رہتی ہے۔
والدین کے بعد ہم بڑے ضرور ہو جاتے ہیں، مگر ہمارے اندر ایک بچہ ہمیشہ ان کے لوٹ آنے کا منتظر رہتا ہے۔
©️ انتخاب سخن