اپنی دم توڑتی سانسیں بھی غزل کو دے دوں یونہی ممکن …


اپنی دم توڑتی سانسیں بھی غزل کو دے دوں
یونہی ممکن ہے کہ آئے مرے اشعار میں جان
——
افضل خان کا یومِ پیدائش
(پیدائش: 10 اکتوبر 1975ء )
——
منتخب کلام
——
تجھ کو راس آئے گا مرا پس پردہ ہونا
میرے مرنے سے پڑے گی ترے کردار میں جان
——
کچھ تو ہے تجھ میں بات کہ تجھ کو ہر ایک شخص
پھر دیکھتا ضرور ہے اک بار دیکھ کر
وہ آنا چاہتا تھا مرے خواب میں مگر
واپس چلا گیا مجھے بیدار دیکھ کر۔
——
تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا
یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا
گرفتار وفا ٰ ! رونے کا کوئی ایک موسم رکھ
جو نالہ روز بہہ نکلے وہ برساتی نہیں ہوتا
بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا
تمہیں دل میں جگہ دی تھی نظر سے دور کیا کرتے
جو مرکز میں ٹھہر جائے ، مضافاتی نہیں ہوتا
اور اب اس بات پر بھی مجھ سے میرے یار الجھتے ہیں
کہ میں ہر بات سن لیتا ہوں ، جذباتی نہیں ہوتا
——
دوغلے پن کا ہنر سیکھ لیا ہے میں نے
اب مجھے شہر میں آنے کی اجازت دی جائے
——
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں
——
بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو
محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا
——
یہ بھی خود کو حوصلہ دینے کا حیلہ ہے کہ میں
انگلیوں سے لکھ رہا ہوں چار سو لا تقنطو
——
دالان میں سبزہ ہے نہ تالاب میں پانی
کیوں کوئی پرندہ مری دیوار پہ اترے
——
جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں
شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے
——
ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر
یونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی
——
بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی
وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں
——
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
——
اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی
اس کو کہتے ہیں انتظار میاں
——
پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے
گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ گھر ہے ہی نہیں
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
یہ جو اس دل کو جنوں میں بھی سکوں ہے،یوں ہے
ذہن پر اسمِ محمــد کا فســوں ہــے، یوں ہــے
میں مدینـے سے پلٹنا ہی نہیں چــاہتـا تھــا
” تُو نے پوچھا تھا نمی آنکھ میں کیوں ہے یوں ہے”
دل کے جذبات الگ عقل کی اوقات الگ
عشق کی راہ مگر یوں ہے نہ یوں ہے یوں ہے
سیرتِ پاک ہی دراصل ہے قانونِ حیات
ورنہ فتوے تو ہزاروں ہیں کہ یوں ہے یوں ہے
دل دھڑکتا ہے محمــد کی زیارت کے لیے
میرے اعضاء میں اگر گردشِ خوں ہے یوں ہے
منکشف مجھ پہ ہو معراجِ نبی کی منطق
میں بھی ہر پوچھنے والے سے کہوں ” ہے، یوں ہے”
——
وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو
ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو
بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری
ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو
تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے
اب جو حالات ہیں اے اہل زباں کیسے ہو
آنکھ کے پہلے کنارے پہ کھڑا آخری اشک
رنج کے رحم و کرم پر ہے رواں کیسے ہو
بھاؤ تاؤ میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی
ہاں مگر تجھ سے خریدار کو ناں کیسے ہو
ملتے رہتے ہیں مجھے آج بھی غالبؔ کے خطوط
وہی انداز تخاطب کہ میاں کیسے ہو
——
ہمارے خون کے پیاسے پشیمانی سے مر جائیں
اگر ہم ایک دن اپنی ہی نادانی سے مر جائیں
اذیت سے جنم لیتی سہولت راس آتی ہے
کوئی ایسی پڑے مشکل کہ آسانی سے مر جائیں
ادھوری سی نظر کافی ہے اس آئینہ داری پر
اگر ہم غور سے دیکھیں تو حیرانی سے مر جائیں
بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی
وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں
اگر وحشت کا یہ عالم رہا تو عین ممکن ہے
سکوں سے جیتے جیتے بھی پریشانی سے مر جائیں
کہیں ایسا نہ ہو یا رب کہ یہ ترسے ہوئے عابد
تری جنت میں اشیا کی فراوانی سے مر جائیں
………….