ڈاکٹرعمرانہ مشتاق مانیؔ کا یومِ پیدائش
October 10, 1982
معروف شاعرہ، ادیبہ، صحافی، عمرانہ مشتاق 10اکتوبر 1982ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ گریجویشن گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ سے کی۔
۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔
پسِ دیوار و در رکھا ہوا ہے
عجب حُسنِ نظر رکھا ہوا ہے
وہ خود رہتا ہے اونچے پربتوں پر
مجھے زیرِ نظر رکھا ہوا ہے
سمندر کی یہ فطرت ہے کہ اُس نے
کناروں تک بھنور رکھا ہوا ہے
بکھر جائیں نہ چاہت میں زیادہ
جنوں کو باندھ کر رکھا ہوا ہے
مجھے اک آرزو نے اس جہاں میں
ابھی تک معتبر رکھا ہوا ہے
ہمارا نام شاید اُس نے ، مانیؔ
کسی کے نام پر رکھا ہوا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قسمت کی خوبی دیکھیے
۔
میں تو سمجھی تھی سمندر کو پُرسکون
دیکھتے ہی دیکھتے اس میں طوفان آ گۓ
میرے صیاد کو ضد ہے کہ قفس کر دوں خالی
وہ بھی مجبور ہے ، اس کے نۓ مہمان آ گۓ
منزل قریب ہے مجھے لگ رہا تھا یوں
چلتے چلتے یکدم مگر راستے ویران آ گۓ
میں لمحوں کی قید سے سمجھ رہی تھی خود کو آزاد
بیچ میں کہاں سے یہ زمان و مکان آ گۓ
بچا کے رکھے تھے کچھ پتے کچھ شگوفے
قسمت میری دیکھیے وہ بھی صرف خزاں ہو گۓ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت
آج کا دن ہے بڑی اہمیت کا حامل
کہ اس دن تو مجھے ہوا تھا حاصل
آج کے دن کا کبھی تجھے رہتا تھا انتظار
مگر آج میں تک رہی ہوں تیری راہ بار بار
سوچتی ہوں دن بدل جاتے ہیں کہ انسان
جتنا سوچتی ہوں اتنا ہی الجھتی ہوں میری جان
تو ساتھ دینا چاہتا ہے زمانے کا
ذکر چھوڑ کر وقت پرانے کا
تیرے نزدیک صرف جوانوں کو محبت نبھانا چاہیے
میرے جیسوں کو تو ویسے ہی مر جانا چاہیے
عمر کا تعلق نہیں محبت سے تجھے کیسے سمجھاؤں
محبت تو ہر عمر میں ہو سکتی ہے تمہیں کیسے بتاؤں
عمر بڑھ جاتی ہے جواں رہتی ہے محبت
چھوڑتی ان کا کچھ نہیں جن کو لگ جاتی ہے بدبخت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش!
کاش تو نے مجھ سے اتنا پیار نہ کیا ہوتا
یا پھر اس کا اتنا اظہار ہی نہ کیا ہوتا
اگر اپنی نئی اک دنیا ہی بسانی تھی
مجھے اپنا بنانے کا اقرار ہی نہ کیا ہوتا
مجھے چھوڑنا ہی گر لازم ٹھہرا تھا
مجھے سے محبت کا اقرار ہی نہ کیا ہوتا
میرا ہونا گر تیرے لیے اس قدر غیر اہم تھا
میں نے بھی تیرا کاش انتظار ہی نہ کیا ہوتا
گر محبت بانٹنا اتنا سہل تھا تیرے لیے
مجھے دیوانہ بنا کے اپنا بیمار نہ کیا ہوتا
اگر یہی اصل روپ ۔ یہی حقیقت تھی
تو پہلے اپنی ذات کو اتنا پُراسرار نہ کیا ہوتا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
