کب تمہارے وعدے پر اِعتِبار کرتے ہیں اِن…
کب تمہارے وعدے پر اِعتِبار کرتے ہیں
اِنتِظار کرنا تھا اِنتِظار کرتے ہیں
آزمانے والوں کو اب یہ کون سمجھائے
ہم وہ ہیں بِگڑّنے میں اور بھی سَنوَرتے ہیں
طنز کر نہ اے مُنعَّم بے چراغ بستی پر
اس کے کونوں کھدروں سے آفتاب اُبھرتے ہیں
آج کے تَناظُر میں ان سے بات کیا کیجئے
جو متاعِ ماضی پر اِنحِصار کرتے ہیں
اس کی بات کا کچھ تو اعتبار کر مُحسِنؔ
اک یقیں نہ ہونے سے سو گُماں گزرتے ہیں
مُحسِنؔ بھوپالی
از:-کُلّیاتِ مُحسِنؔ بھوپالی ص ۱۰۶۳
انتخاب
سفیدپوش