ڈاکٹر راہی معصوم رضا زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر …
ڈاکٹر راہی معصوم رضا
زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا ، زندگی کی طرف ایک دریچہ کھلا
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں ، چوٹ کھاتے رہے ، گنگناتے رہے
ڈاکٹر راہی معصوم رضا
زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا ، زندگی کی طرف ایک دریچہ کھلا
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں ، چوٹ کھاتے رہے ، گنگناتے رہے