ڈاکٹر افتخار مغل کا یوم وفات 10 اپریل 1963 منتخب…
ڈاکٹر افتخار مغل کا یوم وفات
10 اپریل 1963
منتخب کلام
اس جسم کی آشُفتہ بیانی سے گزر کر
تھک جاتا ہے انسان جوانی سے گزر کر
بے رنگ نظر آتا ہے جس کو مرا کردار
دیکھے تو ذرا میری کہانی سے گزر کر
ہم تم بھی تو اے دوست! بہت ٹوٹ گئے ہیں
ٹوٹی ہوئی ترتیبِ زمانی سے گزر کر
لیکن، کوئی پہنچا ہی نہیں دل کے متن تک
اجسام کے الفاظ و معانی سے گزر کر
بھیگی ہوئی لگتی ہے ہر اک چیز کی تصویر
اس آنکھ میں ٹھہرے ہوئے پانی سے گزر کر
______________
ابھی تو گھاؤ ترے ہجر کا بھرا بھی نہیں
بھرا بھی ہو تو تاسف ؟ نہیں ذرا بھی نہیں
یہ دیکھ کر مری حیرت کی انتہا نہ رہی
کہ میں نے ہاتھ بھی پھیلا دیا مرا بھی نہیں
میں تج بھی سکتا ہوں کھیل اپنے ہونے کا
یہ کھیل جس سے مرا دل ابھی بھرا بھی نہیں
تو مجھ کو وہ بھی نہیں سمجھا دُوسروں کی طرح
جو اپنا آپ ہے میرا، جو دوسرا بھی نہیں
کہ چاہے جانے کی خواہش بھی چاہنے میں ہے
سو میرے یار! یہ سودا بہت کھرا بھی نہیں
میں اپنی قبر ہوں مدت سے افتخار مغلؔ
اور افتخار مغل خود سے میں ڈرا بھی نہیں