ڈاکٹر آلین دزولیئر

ڈاکٹر آلین دزولیئر سے ملاقات کا احوال

ڈاکٹر آلین دزولیئر سے ملاقات کا احوال

ایک دن کا ذکر ہے۔ شام ڈھل چکی تھی ،اس زمانے میں رات گئے تک حلقہ یاراں میں بیٹھنا معمول تھا۔ اس شب بھی حسب معمول دوستوں کے ساتھ گپ شپ جاری تھی کہ ایک فون کال موصول ہوئی،دوسری جانب یار غار فرخ شہباز وڑائچ تھا۔ اس نے کہا کہ جناب آپ کے ذمے ایک کام لگا رہا ہوں ،آپ نے انکار نہیں کرنا ،کیونکہ جو ڈیوٹی آپ کے ذمے لگا رہا ہوں آپ ہی وہ بخوبی نبھا سکتے ہیں۔ عرض کیا حکم کریں، بندہ سر تسلیم خم کرتا ہے۔ کہنے لگا ! میں لاہور سے باہر ہوں ،پیرس سے ایک پروفیسر صاحب آئے ہوئے ہیں ان کا انٹرویو کرنا ہے۔ عرض کیا! میں معذرت کروں گا کیونکہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ میری انگریزوں سے بنتی ہے نہ ہی انگریزی سے ۔ اس لیے جس انسٹیٹیوٹ سے فلم سٹار میرا نے انگریزی زبان سیکھی ،میں اس ادارے کے پاس سے بھی نہیں گذرا،انگلش سیکھنے کے لیے اور نہ ہی میرا کو دیکھنے کے لیے۔ مگر میرا جواب اور معذرت کو اس نے اتنی اہمیت نہ دی اور زبردستی یہ انٹرویو میرے سر منڈھتے ہوئے کہا کہ جناب میں نے کچھ اور نہیں سننا۔ اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے حامی بھری اور کہا کہ پھر مجھ سے کوئی شکایت نہ کیجئے گا۔

حکم دوستاں کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے ڈاکٹر آلین دزولیئر کی جانب روانہ ہوا ،راستے میں انگلش کی گردان بھی جاری رکھی کہ کیسے سوالات بنانے ہیں ۔ سوچتے سوچتے منزل پر پہنچ گیا ۔ ڈاکٹر آلین دزولیئر نے باہر آکر استقبال کیا ,ہیلو ہائے کے بعد ہم اندر تشریف لے گئے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا سر پلیز سٹ ڈاؤن۔۔۔۔ مسٹر آلین نے میری طرف دیکھا اور کہا "بیٹھ جاؤں”۔ یاحیرت یہ کیا ماجرا ہے ۔ابھی اس جھٹکے سے سنبھلا ہی نہیں تھا کہ وہ بولے ۔ مسٹر ملک ! میں آپ سے بہتر انگلش میں بات کر سکتا ہوں مگر ہم اردو میں بات کریں اور اردو زبان میں ہی اپنا انٹرویو دوں گا۔ میرے سر سے انگریزی زبان کا بھاری بھرکم بوجھ اتر گیا اور پھر ہم نے اردو میں ہی گفتگو شروع کر دی بعد ازاں اردو میں ان کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کے دوران ڈنمارک میں گستاخانہ خاکوں پر بھی بات ہوئی ،وہ اس وجہ سے شرمندہ تھے کہ ہمارے لوگ گستاخانہ خاکے شائع کر کے بہت برا کر رہے ہیں ،کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیئے۔ اس کے بعد وہ لاہور سے اسلام آباد تشریف لے گئے ،دو دن بعد ان سے فون پر رابطہ ہوا ،وہ واپس پیرس جا رہے تھے ۔ حال احوال کے بعد ان سے پاکستان کے حالیہ دورے کے بارے بات ہوئی وہ کافی خوش تھے ۔ میں نے پوچھا آپ کے اس دورے میں کوئی ناخوش گوار واقعہ تو نہیں پیش آیا۔ اس پر انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ کل میرا ایک آئی فون چوری ہوا ہے جب میں کہیں سیر کے لیے گیا ہوا تھا مگر آپ میرے انٹرویو میں اس کا ذکر نہ کرنا کیونکہ اس سے پاکستان اور اہل پاکستان کے بارے کچھ اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ میں فون بند کرتے ہوئے سوچے جا رہا تھا کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مثبت ہیں اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔

[button color=”orange” size=”medium” link=”http://” icon=”” target=”false”]اے ایم ملک[/button]