پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

چنتا رہوں میں حرفوں کی دیوار کب تلک اے کرب ذات سام…


چنتا رہوں میں حرفوں کی دیوار کب تلک
اے کرب ذات سامنے آ کر دکھا مجھے
……
ممتاز شاعر اور ملی و فلمی نغمہ نگار کلیم عثمانی کا یومِ پیدائش
28 فروری 1928ء
(پیدائش: 28 فروری، 1928ء – وفات: 28 اگست، 2000ء)
——
منتخب کلام
——
میں اپنے شہر میں پھر بھی اجنبی سا ہوں
جنوں یہ ہے کہ وفا کو تلاش کرتا ہوں
——
ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت
پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہت
——
ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندا
مجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتے
——
جب کسی نے قد و گیسو کا فسانہ چھیڑا
بات بڑھ کے رسن و دار تک آ پہنچی ہے
——
روز مصلوب ہوئے اپنی انا کے ہاتھوں
ہم نے دنیا میں بہت کم ہی قلندر دیکھے
——
کیا شخص تھا کیا اس کے خدوخال بتائیں
کلیاں بھی اسے دیکھ کے ملتی رہیں آنکھیں
——
جب سے وہ شخص میری نگاہوں میں بس گیا
اپنی طرف بھی دیکھنے کو میں ترس گیا
——
دور ہوں میں منافقت سے کلیم
جیسا اندر ہے ویسا باہر ہے
——
میں نے سمجھا تھا ملے گی مجھ کو ہمدردی کی بھیک
لوگ تو میرے غموں سے دل کو بہلانے لگے
——
کیا شخص تھا کیا اس کے خدوخال بتائیں
کلیاں بھی اسے دیکھ کے ملتی رہیں آنکھیں
——
کب سے نجانے ساۓ کی صورت,گلیوں گلیوں پھرتے ہیں
کس سے دل کی بات کریں ہم شہر ہے اُس ہرجائی کا
——
جب سے وہ شخص میری نگاہوں میں بس گیا
اپنی طرف بھی دیکھنے کو میں ترس گیا
——
دور ہوں میں منافقت سے کلیم
جیسا اندر ہے ویسا باہر ہے
——
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں
…….
رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کا
کتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کا
اڑتے لمحوں کے دامن میں تیری یاد کی خوشبو ہے
پچھلی رات کا چاند ہے یا ہے عکس تری انگڑائی کا
کب سے نہ جانے گلیوں گلیوں سائے کی صورت پھرتے ہیں
کس سے دل کی بات کریں ہم شہر ہے اس ہر جائی کا
عشق ہماری بربادی کو دل سے دعائیں دیتا ہے
ہم سے پہلے اتنا روشن نام نہ تھا رسوائی کا
شعر ہمارے سن کر اکثر دل والے رو دیتے ہیں
ہم بھی لئے پھرتے ہیں دل میں درد کسی شہنائی کا
تم ہو کلیمؔ عجب دیوانے بات انوکھی کرتے ہو
چاہ کا بھی ارمان ہے دل میں خوف بھی ہے رسوائی کا
——
رات پھیلی ہے تیرے ، سرمئی آنچل کی طرح
چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے ، پاگل کی طرح
خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں
شہر بھی اب تو نظر آتا ہے ، جنگل کی طرح
پھر خیالوں میں ترے قُرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مری ، بادل کی طرح
بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات
میں برستا رہا ویرانوں میں ، بادل کی طرح
——
اِن کا نعتیہ نمونہ

ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجہء سکوں ہے جن کا نام
ان پر نثار جان و دل ان پر درود اور سلام
ان کے نظر کے فیض سے خار بھی پھول ہو گئے
ان کے قدم سے مل گیا خاک کو عرش کا مقام
——
بشکریہ اردوئے معلیٰ