پھر اچانک سے کیٹنگ اچھل کر اپنی میز پر کھڑا ہوگیا۔…
پھر اچانک سے کیٹنگ اچھل کر اپنی میز پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے پوچھا،" میں یہاں پر کیوں کھڑا ہوں؟"
چارلی بولا، "زیادہ لمبا محسوس کرنے کے لئے؟"
"میں یہاں خود کو یہ یاد دلانے کے لیے کھڑا ہوں کہ ہمیں ہر دم اپنے آپ کو اس بات کے لئے مجبور کرنا ہے کہ ہم چیزوں کو مختلف نقطۂ نظر سے دیکھیں۔یہاں اس بلندی سے دنیا مختلف نظر آتی ہے۔اگر آپ کو اس بات کا یقین نہیں ہے تو اٹھیں اور آپ سب باری باری یہاں آکر دیکھ لیں۔ ۔"
کیٹنگ چھلانگ لگا کر نیچے اتر آیا. ماسوائے ٹوڈ اینڈرسن، تمام لڑکے کمرے کے سامنے کے حصے کی طرف گئے اور باری باری کیٹنگ کی میز پر چڑھ کر کھڑے ہوئے۔ کیٹنگ منتظرانہ انداز میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے دو رویوں کے مابین ٹھہل قدمی کرتا رہا۔
جب وہ اپنی نشستوں کی طرف لوٹ رہے تھے تو کیٹنگ بولا،اگر آپ کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ پراعتماد ہیں تو اس کے متعلق اپنے آپ کو ذرا ہٹ کر سوچنے پر مجبور کریں اگرچہ آپ کو وہ غلط یا احمقانہ ہی کیوں نہ لگے۔جب آپ مطالعہ کرنے لگیں تو صرف وہ نہ سمجھیں جو کہ مصنف سوچتا ہے بلکہ کچھ وقت نکال کر یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے۔"
لڑکو! اپنی آواز ڈھونڈنے کی کوشش کرو اور اور اس کو شروع کرنے میں جتنا زیادہ انتظار کرو گے، اتنا ہی غیر ممکن ہے کہ آپ اسے پا سکو۔تھورو کہتا ہے کہ اکثر لوگ خاموشی سے مایوسی والی زندگی بسر کرتے ہیں۔' ایسا کیونکر کیا جائے؟ نئی سرزمینوں پر چلنے کا خطرہ مول لیا جائے۔۔۔۔"
Then suddenly Keating leaped up on his desk. “Why do I stand here?” he asked.
“To feel taller?” Charlie suggested.
“I stand on my desk to remind myself that we must constantly force ourselves to look at things differently. The world looks different from up here. If you don’t believe it, stand up here and try it. All of you. Take turns. ”
Keating jumped off. All of the boys, except for Todd Anderson, walked to the front of the room, and, a few at a time, took turns standing on Keating’s desk. Keating strolled up and down the aisles expectantly as he watched them.
“If you’re sure about something,” he said as they slowly returned to their seats, “force yourself to think about it another way, even if you know its wrong or silly. When you read, don’t consider only what the author thinks, but take time to consider what you think.
“You must strive to find your own voice, boys, and the longer you wait to begin, the less likely you are to find it at all. Thoreau said, ‘Most men lead lives of quiet desperation.’ Why be resigned to that? Risk walking new ground.”
Novel : The Dead Poets Society
N.H Kleinbaum
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2862946557269192