’’پروفیسر عبدالقوی دسنوی اردو دانش وری کا وہ حوالہ تھے جس میں تعلیم و تعلیم،تحقیق و تنقید سب یکجا ہوگئے تھے۔تقسیم وطن کے بعد دارالاقبال بھوپال میں جن لوگوں نے اردو زبان وادب کی ترویج واشاعت میں غیر معمولی خدمات انجام دیں ان میں سیفیہ کالج اور پروفیسر عبدالقوی دسنوی دونوں کو بھلایا نہیں جاسکتا۔علامہ اقبال اور خاص طور پر مولانا آزاد پر قوی صاحب کے کام آج بھی بنیادی حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘
پروفیسر اختر الواسع

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔