پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

پاولو کویلھو کی کتاب"گریہ بر کنار دریا"س…

پاولو کویلھو کی کتاب"گریہ بر کنار دریا"سے متاثر ہو کر لکھی گئ نظم۔
کتاب کا بہترین ترجمہ جناب سعید احمد صاحب نے بڑی خوش اسلوبی سے کیا پے۔میں ان کا ممنون ہو کہ انھوں نے یہ کتاب مجھے تحفتا ارسال کی تھی۔
نظم۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا۔۔۔۔۔۔۔
ہر کسی کی کھال میں اک "دوسرا" ہے
اس کو ازبر ہے کتاب
" زر کما کر سرخرو ہوجائیے"
وہ نشست مصلحت پر بیٹھ کر
درس عیاری پڑھاتا ہے ہمیں
دور اندیشی سکھاتا ہے ہمیں
فکر فردا سے ڈراتا ہے ہمیں
"دوسرے" کا مدعا ہے
" وہ بنو جو تم نہیں ہو"
مجھ سے کہتا ہے میرا دل:
"تم وہی ہو جو کہ تم ہو
یہ ادا کاری کہاں تک!
دیکھ لو
آج کے آب رواں میں
زھر فردا گھول کر
تشنگی کو زینت لب ماننا اک جرم ہے"
میں نے مانی دل کی بات
"دوسرے "کو خود سے منہا کر کے دیکھا
اس لئے اب روز و شب
خواب کی تتلی میری پلکوں پہ آ کر بیٹھتی ہے۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2970094683221045