وہ جذبے چھین لو مجھ سے . جو میرے انگ ، میری روح ، …
وہ جذبے چھین لو مجھ سے
.
جو میرے انگ ، میری روح ، میرے دل میں بستے ہیں
جنہیں خود میں سمونے کے لیے سینے ترستے ہیں
وہ لمحے چھین لو مجھ سے ۔ ۔ ۔
جو میرے ذہن کی تاریکیوں میں شمع روشن ہے
میری خلوت کی خوشبو ہے ، میرے یادوں کے گلشن ہیں
وہ چہرے چھین لو مجھ سے ۔ ۔ ۔
جو خال و خد نہیں آئینے ہیں میرے سیرت کے
جو ہر پہلو سے عکسِ ضوفشاں ہیں میری صورت کے
وہ رشتے چھین لو مجھ سے ۔ ۔ ۔
جو میرے ذہن و دل میں روشنی کی بیج بوتے ہیں
جو رگ رگ میں لہو کی چاپ سے منسوب ہوتے ہیں
وہ آنکھیں چھین لو مجھ سے ۔ ۔ ۔
جو میری روح کا نوحہ ہیں ، میری ذات کا لہجہ
جہاں ڈھلتا ہے آئینوں میں احساسات کا لہجہ
وہ سپنے چھین لو مجھ سے ۔ ۔ ۔
جو ان ویران آنکھوں میں ابھی تک جگمگاتے ہیں
ابھی تک سانس لیتے ہیں ، ابھی تک مسکراتے ہیں
وہ سپنے چھین لو مجھ سے ۔ ۔ ۔
مگر اے ظالمو! مجھ سے میرا احساس مت چھینو
طلب کی آس مت چھینو
جو میرے ضبط کی پہچان ہے وہ پیاس مت چھینو
میرا احساس مت چھینو
اعتبار ساجد