وہاج الدین شمیم۔
تمنا یہ نہیں ہے کام کچھ نایاب ہو مجھ سے
دُعا یہ ہے شگفتہ خاطرِ احباب ہو مجھ سے
پھروں میں چشمہ سا دُنیا میں سرگشتہ و آوارہ
کوئی سوکھی ہوئی کھیتی کبھی سیراب ہو مجھ سے
وہاج الدین شمیم۔
تمنا یہ نہیں ہے کام کچھ نایاب ہو مجھ سے
دُعا یہ ہے شگفتہ خاطرِ احباب ہو مجھ سے
پھروں میں چشمہ سا دُنیا میں سرگشتہ و آوارہ
کوئی سوکھی ہوئی کھیتی کبھی سیراب ہو مجھ سے
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔