وہاج الدین شمیم۔ تمنا یہ نہیں ہے کام کچھ نایاب ہو…


وہاج الدین شمیم۔

تمنا یہ نہیں ہے کام کچھ نایاب ہو مجھ سے
دُعا یہ ہے شگفتہ خاطرِ احباب ہو مجھ سے

پھروں میں چشمہ سا دُنیا میں سرگشتہ و آوارہ
کوئی سوکھی ہوئی کھیتی کبھی سیراب ہو مجھ سے