پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

نہ یہ دل اداس رہتا، نہ یوں بےقرار ہوتا اگر اتفاق…


نہ یہ دل اداس رہتا، نہ یوں بےقرار ہوتا
اگر اتفاق سے میں ترا اعتبار ہوتا

مجھے گر یقین ہوتا, کہ سدا رہے گامیرا
تو متاعِ جان و دل پہ ترا اختیار ہوتا

مجھے چاہتاہے تو بھی یہ تو میں بھی جانتاہوں
نہ یہ جانتا تو پھر کیوں ترا انتظار ہوتا

یہ محبتوں کے ریلے, تو ہیں چار دن کے میلے
کوئ تیرے جیسا ساتھی مرا غمگسار ہوتا

کسی کنج گل میں رہتا کسی شاخ پرمہکتا
نہ یہ درد سر کا باعث غم روزگار ہوتا

(اعتبار ساجد)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی