پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

نوبیل انعام کا محتاط انتخاب: امید کی جارہی تھی رو…

نوبیل انعام کا محتاط انتخاب:

امید کی جارہی تھی رواں برس نوبیل کمیٹی یورپ سے باہر نکلے گی اور کسی ایسے ادیب کو انعام دے گی جس سے انعام متنازع نہ بنے. پچھلے برس ہنگری کے پیٹر ہاندکے کو انعام دینے کے بعد کمیٹی شدید تنقید کی زد میں آئی تھی. پیٹر ہاندکے پر سربیا میں مسلمانوں کی نسل کشی سے انکار کے الزامات تھے. ٢٠١٦ میں امریکی گلوکار اور شاعر باب ڈلن کو انعام دینے سے بھی کافی گرد اڑی تھی اور دنیا بھر کے سنجیدہ ادبی حلقوں میں فیصلے پر ناپسیندگی کا اظہار کیا گیا تھا. ٢٠٢٠ کا نوبیل ایک امریکی شاعرہ لوئز الزبتھ گلک کو دینا ایک محتاط انتخاب ہے اور اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کمیٹی مزید تنازعات کے جوکھم میں پڑنے سے گریزاں ہے. مارگریٹ ایٹ ووڈ کو نظر انداز کرنا اب تک حیران کن ہے جو فکشن اور شاعری کا بے مثل امتزاج ہے. یورپ اور امریکا کے علاوہ دنیا کے دوسرے خطوں کے ادیبوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کا رویہ بھی ناقابل فہم ہے. بعض مبصرین کے مطابق نوبیل کمیٹی برائے ادب کو تحلیل کرکے ایک نئی کمیٹی بنانی چاہیے جس میں دنیا بھر کے مختلف افراد کو نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ دنیا کی دیگر زبانوں کو بھی انعام سے مستفید کیا جاسکے کیوں کہ انگریزی اور یورپی زبانوں کے زبانوں کے علاوہ بھی دنیا میں بہترین ادب لکھا جارہا ہے.

(شیخ نوید)

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2899186253645222