~ میں یوسف ہوں ، یا پدر ! ~
میں یوسف ہوں، یا پدر۔
یا پدر ، اپنے بھائیوں کو محبوب ہوں
اور نہ ہی اپنی صفوں میں
مُجھے قبول کرتے ہیں۔
وہ مجھ پہ حملہ آور ہیں
پتھر اور لفظ مُجھ پہ برساتے ہیں۔
وہ مری موت کے مُنتظر… More ہیں
کہ مرا قصیدہ کہہ سکیں۔
تُمھارے گھر کا دروازہ بند کر کے
وہ مُجھے باہر چھوڑ آئے۔
جاگیر سے مُجھے بے دخل کرکے
مرے انگوری باغوں کو زہر آلود کرچُکے
مرے کھلونوں کو تباہ کرچُکے ، یا پدر!
جب مری زلفوں سے بادِ صبا کھیلتے گُزری
وہ حسد کی آگ میں دہکنے لگے
مرے اور ترے خلاف طیش میں جلنے لگے ،
میں نے اُن کا بگاڑا ہی کیا ہے، یا پدر؟
تتلیاں مرے کندھوں پہ جب اُترنے لگیں
گندم کے کھیت مری جانب لہلہانے لگے
اور پرندے ، مری ہتھیلی پر سستانے لگے
مرا گُناہ کیا ہے ، یا پدر؟
اور میں ہی کیوں ؟
تو نے مُجھے… More

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3022603431303503

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔