اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

میں جیتا ہوں اور خود کو مسلسل زندہ رہنے دیتا ہوں ت…

میں جیتا ہوں اور خود کو مسلسل زندہ رہنے دیتا ہوں تاکہ بورخیس اپنی تخلیقات کی تدبیر کر سکے اور یہ تخلیقات مجھے جواز دے سکیں۔۔ میں تھوڑا تھوڑا کر کے سب کچھ اس کے سپرد کیے جا رہا ہوں، اگر چہ میں اس کے ناخوب طریق سے خوب واقف ہوں کہ وہ چیزوں میں کزب کی آمیزش کرتا ہے اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔۔

بہت سال ہوئے میں نے خود کو اُس سے چھڑانے کی کوشش کی اور مضافاتی اساطیر سے لیکر وقت اور لا انتہا کے ساتھ کھیل کھیلنے تک سے گزرا۔۔ لیکن اب وہ کھیل بورخیس کے ہوچکے اور اب مجھے اور ہی چیزیں تخیل میں لانا پڑیں گئی۔۔

یوں میری تمام زندگی ایک فرار ہے اور میں ہر شے کھوئے جاتا ہوں اور ہر شے فراموشی کی ملکیت ہوئے جاتی ہے، یا پھر اس کی۔۔ مجھے نہیں معلوم یہ ورق ہم میں سے کس نے لکھا۔۔!!
••••
خورخے لوئیس بورخیس
مترجم : سید کاشف رضا صاحب
حوالہ : ممنوع موسموں کی کتاب
انتخاب و ٹائپنگ : احمد بلال


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2939456269618220