میکشؔ اکبرآبادی (سیّد محمد علی شاہ) . تم مُضطرب ن…
میکشؔ اکبرآبادی
(سیّد محمد علی شاہ)
.
تم مُضطرب نہیں مرے حالِ تباہ سے؟
دیکھو ذرا نگاہ مِلا کر نگاہ سے
دیکھا تو ہوگا تم نے ہمارا مقام بھی
گزرے کبھی تو ہوگے محبّت کی راہ سے
بزمِ جہاں میں کوئی تجلیِ دلنواز
بچ کر کبھی گئی نہ ہماری نگاہ سے
قائم ہے یہ جہاں تِری عصمت ہی سے، مگر
رونق جہاں کی ہے مرے ذوقِ گناہ سے
وہ دِل رہینِ کشمکش ِ اضطراب و کیف
وہ عُذرِ بے رُخی نگہِ گاہ گاہ سے
سب کچھ ہے، اور کچھ نہیں اے داد خواہِ عِشق !
وہ دیکھ کر نہ دیکھنا نیچی نگاہ سے
.
میکش اکبر آبادی
("حرفِ تمنّا "سے اِنتخاب)