اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

میر ببر علی انیسؔ شہیدِ عشق ہوے قیسِ نامور کی طرح …


میر ببر علی انیسؔ
شہیدِ عشق ہوے قیسِ نامور کی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نےکۓ ہنر کی طرح
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحرکی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ
کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح
تمامم خلق ہےخواہانِ آبرو یارب
چھپا مجھے صدفِ قبرمیں گہرکی طرح
تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرارآنکھیں
مری نظرنہ پھرے گی تری نظر کی طرح
انیسؔ یوں ہوا حالِ جوانی و پیری
بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح
غزل کے چند اشعار
خموش اے بلبلِ شوریدہ اس میں کیاہے نس میرا
یہ اپنی اپنی قسمت ہے چمن تیرا قفس میرا
یہی باعث ہے اس بے رحم کے آنسو نکلنے کا
دھواں لگتا ہےآنکھوں میں کی کے دل کے جلنے کا
کس سے اےشوخ ہوئ رات کو ہاتھاپائ
نورتن آج جوڈھلکا ہے ترے بازو سے
ایک وہ دن تھا کہ تکیہ تھا کسی کا زانو
اب سر اٹھتا ہی نہیں اپنے سرِ زانو سے
کل تو آغوش میں شوخی نے ٹہرنے نہ دیا
آج کی شب تو نکل جاؤ مرے قابو سے
بتا تو دیجۓ صاحب کہاںکا بوسہ لیں
دہن بھی آپ کا ملتا نہیں کمر کی طرح
پکارے کہتی ہے حسرت سے نعش عاشق کی
صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کےچلے
…..
میر انیس کی غزل گوئ سیدہ زینب غروی
کتاب نما کا خصوصی شمارہ ” میرببرعلی انیس”
…..
بشکریہ وسیم سیّد