
میرے مَنٹو، آپ کے مَنٹو بلکہ ہم سب کے مَنٹو کی بیٹی کا انٹرویو دیکھئے، منٹٹو سے نفرت برائے نفرت کرنے سے پہلے اپنے دماغ سے یہ خناس نکال دیجئے کہ وہ فحش گو تھا، اس نے اپنے دور میں جو دیکھا بلا کم وکاست وہی لکھا،
اس پر ایک الزام یہ بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس کے دماغ میں ہر وقت عورت گھسی رہتی تھی، ایسا کہنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مَنٹو کو سرے سے پڑھا ہی نہیں، کیونکہ درحقیقت مَنٹو تو وہ شخص ہے جو عورت کی بے توقیری دیکھ ہی نہیں سکتا تھا، اس نے ان ہوس پرست مردوں پر اپنے قلم کی دھار تیز کی جو عورت کو نوچ کھانے والے درندے نما مرد ہوتے تھے، اسی لیے اللہ نے اسے بطور انعام تین بیٹیوں سے نوازا تھا