اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ افسانے

میری بیٹی اکثر مائیکرو ویو میں چھوٹے چھوٹے آلو رکھ کر پکا لیتی ہے، پھر چھلکا اتا…


میری بیٹی اکثر مائیکرو ویو میں چھوٹے چھوٹے آلو رکھ کر پکا لیتی ہے، پھر چھلکا اتار کر ان پر نمک، چاٹ مصالحہ اور لیموں چھڑک کر بڑے شوق سے کھاتی ہے۔ اسے کہاں خبر کہ مائیکرو ویو کے یہ آلو ان بُھنے ہوئے آلوؤں کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے جو ہم نے بچپن میں لکڑیوں اور کوئلوں کی آگ پر بھون کر کھائے تھے۔
​تپتے کوئلوں اور گرم راکھ میں دابے ہوئے وہ آلو اندر تک نرم اور ذائقہ دار ہو جاتے تھے۔ نہ لیموں کی ضرورت ہوتی تھی نہ چاٹ مصالحے کی۔ بس جلا ہوا سیاہ چھلکا اتارا اور دھواں دھار، نرم گرم آلو پر ذرا سا نمک چھڑک کر کھا لیا… اس ذائقے اور خوشبو کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔
​اب تو مٹی کے چولہے اور لکڑی کی آگ دیکھے بھی ایک زمانہ بیت گیا، لیکن راکھ میں دبے ان آلوؤں کی خوشبو اور ذائقہ آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔





Source