مُعجمُ البُلدان ( اسلامی شہروں کا فرہنگ)
کافی عرصے سے ایک ایسی کتاب کی تلاش تھی جو اسلامی تاریخ، عربی ادب اور شعرائے جاہلیت میں ذکر کیے گئے مقامات کے بارے میں ہو- طویل عرصے کی تلاش کے بعد "یاقوت بن عبداللہ رومی- حموی- بغدادی" کی کتاب "معجم البلدان" کا اردو اختصار جو کہ "ڈاکٹر غلام جیلانی برق"کا مرتب کردہ ہے ایک جگہ دیکھا تو فوراً خرید لیا-
اردو ادب میں بلاد اسلامی پر یہ پہلی کتاب ہے جس میں دس ہزار دو سو شہروں کا تذکرہ ہے- ڈاکٹر غلام جیلانی لکھتے ہیں کہ اس معجم کو مرتب کرنے کی غرض یہ تھی کہ کسی بستی، پہاڑ، دریا یا وادی کا مقام وقوع معلوم ہو جائے- اصل کتاب میں سولہ ہزار دو سو ستر مقامات کا ذکر ہے، جبکہ میں نے صرف دس ہزار دو سو منتخب کیے ہیں اور تمام ایسے مقامات کو چھوڑ دیا ہے جن کے متعلق یاقوت نے صرف اتنا کہا تھا کہ یہ ایک موضع ہے، یہ نہ بتایا کہ وہ کہاں ہے؟ اس کے علاوہ مبہم تشریح کے حامل مقامات کو بھی منتخب نہیں کیا گیا- مثلاً "ذوا اروک وادٍ فی بلادھم" (ذواروک قبیلہ اروک کے بلاد میں ایک وادی ہے) اس قبیلے کا نام کہیں بھی نہیں مل سکا- اور اس طرح کے کئی مبہم تشریح والے مقامات کو اس اختصار میں شامل نہیں کیا گیا-
ڈاکٹر صاحب نے اس تلخیص کے آخر میں بلاد اندلس کا ایک ضمیمہ بھی لگا دیا ہے جس میں 265 شہروں کا ذکر ہے اور ہر شہر کے سامنے اس کا تبدیل شدہ نام بھی درج کر دیا ہے-
چونکہ اصل کتاب کے مصنف یاقوت نے کہا تھا کہ"میں مستقبل کے کاتبین و ناقلین سے التماس کرتا ہوں کہ وہ میری محنت ضائع نہ کریں اور تمام تفاصیل اسی طرح رہنے دیں- اگر کسی نے ان تفاصیل کو خارج کیا تو روز قیامت اس کا محاسبہ کروں گا-"
اس بارے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ، "یاقوت زندہ ہوتا تو میں اس سے معافی مانگتا اور ساتھ ہی اپنی کچھ مجبوریاں پیش کرتا کہ میرے ملک کے اہل علم کو اس کتاب کی شدید ضرورت تھی اور میں زندگی کی آخری منزل پر تمام تفاصیل کا ترجمہ کرنے سے قاصر تھا-"
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2827253300838518

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔