مولانا چراغ حسن حسرتؔ کی شہرت زیادہ تر ایک صحافی ک…


مولانا چراغ حسن حسرتؔ کی شہرت زیادہ تر ایک صحافی کی رہی لیکن وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔اُنہوں نے بہت سی نظمیں اور غزلیں بھی لکھیں لیکن ان کا زیادہ تر کلام یا تو نا پید ہوگیا یا پھر منتشر حالت میں ہے۔حسرتؔ کے کلام کے چند اشعار ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں جن سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ کس پائے کی شاعری کرتے تھے۔

جوانی مٹ گئی لیکن خلش دردِ محبت کی
جہاں معلوم ہوتی تھی وہیں معلوم ہوتی ہے

اُمید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا

اب کے برسات میں بھی نہ پی سکے
ہم پہ روتی ہوئی برسات گئی

زندگی تو ہی مختصر ہوجا
شب غم مختصر نہیں ہوتی

شمعیں بجھنے لگیں کہرام ہے پروانوں میں
رخ روشن ہے عیاں نور سحر ہے کہ نہیں

ڈرتا ہوں اس چشم فسوں ساز کی گردش
احساس تمناکو کو تمنا نہ بنادے

رات کی بات کا مذکور ہی کیا
چھوڑئیے، رات گئی، بات گئی

راشد اشرف کی کتاب ،” ہم تم کو نہیں بھولے ” سے ماخوذ
اِنتخاب
ابوالحسن علی ندوی