اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

منفرد کلام ادائیگی کا منفرد انداز ۔۔۔!! اک سوچ عق…



منفرد کلام ادائیگی کا منفرد انداز ۔۔۔!!

اک سوچ عقل سے پھسل گئ
مجھے یاد تھی کہ بدل گئ
میری سوچ تھی کہ وہ خواب تھا
میری زندگی کا حساب تھا
میری جستجو کے برعکس تھی
میری مشکلوں کا وہ عکس تھی
مجھے یاد ہو تو وہ سوچ تھی
جو نہ یاد ہو تو گمان تھا
مجھے بیٹھے بیٹھے گماں ہوا
گماں نہیں تھا خدا تھا وہ
میری سوچ نہیں تھی خدا تھا وہ
وہ خدا کہ جس نے زبان دی
مجھے دل دیا مجھے جان دی
وہ زباں جسے نہ چلا سکیں
وہی دل جسے نہ منا سکیں
وہی جاں جسے نہ لگا سکیں
کبھی مل تو تجھ کو بتائیں ہم
تجھے اس طرح سے سنائیں ہم
تیرا عشق تجھ سے چھین کے
تجھے مۓ پلا کے رلایں ہم
تجھے درد دوں تو نہ سہ سکے
تجھے دوں زباں تو نہ کہ سکے
تجھے دوں مکاں تو نہ رہ سکے
تجھے مشکلوں میں گِھرا کے میں
کوئی ایسا رستہ نکال دوں
تیرے درد کی میں دوا کروں
کسی غرض کے میں سِوا کروں
تجھے ہر نظر پہ عبور دوں
تجھے زندگی کا شعور دوں
کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر
ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر
تیرے ایک ہونے میں شک نہیں
میری نیتوں کو تو صاف کر
تیری شان میں بھی کمی نہیں
میرے اس کلام کو معاف کر

علی ہمدانی ۔۔۔!!