پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

معنی کے شہر میں عطا ؔ ، کوئی نہیں ہے دور تک آدمی ب…


معنی کے شہر میں عطا ؔ ، کوئی نہیں ہے دور تک
آدمی بابِ ہست کا نقش ہے اک مٹا ہوا
…..
معروف شاعر عطا شاد کا یوم وفات
13 February 1997
(پیدائش: یکم نومبر 1939ء — وفات: 13 فروری 1997ء)
منتخب کلام
——
دل وہ صحرا ہے جہاں حسرت سایہ بھی نہیں
دل وہ دنیا ہے جہاں رنگ ہے رعنائی ہے
——
وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
——
درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
——
یک لمحہ سہی عمر کا ارمان ہی رہ جائے
اس خلوتِ یخ میں کوئی مہمان ہی رہ جائے
قربت میں شبِ گرم کا موسم ہے ترا جسم
اب خطۂ جاں وقفِ زمستان ہی رہ جائے
مجھ شاخِ برہنہ پہ سجا برف کی کلیاں
پت جھڑ پہ ترے حسن کا احسان ہی رہ جائے
برفاب کے آشوب میں جم جاتی ہیں سوچیں
اس کربِ قیامت میں ترا دھیان ہی رہ جائے
سوچوں تو شعاعوں سے تراشوں ترا پیکر
چھو لوں تو وہی برف کا انسان ہی رہ جائے
——
پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
ہم سے پی اور ہمیں رسوا سرِ بازار کیا
رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
——
برف کی رات سنا کرتے تھے تیرے جسم کے گیت
یاد کے موسم میں پڑھتا ہوں آج بھی وہی کتاب
لمس کی تہہ میں عکس چھپا ہو پسِ نظر ہو رنگ
گیان مسافت کے ہر پل میں لو دے تری کتاب
——
کوئی کہیں تو سنے تیرے عرضِ حال کا حبس
ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا
——
ترسے یہ گرم زادِ جاں، برسے گھٹا سی چاندنی
اے شبِ حبسِ بے کراں، کوئی ہوا سی چاندنی
——
خیموں سے رکی ہوئی ہے بارش
دیوار کی قید میں ہوا ہے
——
کس کو اس دور میں ہے فرصتِ عشقِ خوباں
آگ تیرے لب و رخسار نے برسائی ہے
——
دشت میں سفر ٹھہرا پھر مرے سفینے کا
میں نے خواب دیکھا تھا برف کے پگھلنے کا
——
دھوپ کی تمازت تھی موم کے مکانوں پر
اور تم بھی لے آئے سائبان شیشے کا
——
سیلاب کو نہ روکیے رستا بنائیے
کس نے کہا تھا گھر لبِ دریا بنائیے
——
کوہساروں کی عطا رسم نہیں خاموشی
رات سو جائے تو بہتا ہوا چشمہ بولے
——
کاروبارِ ہستی میں سود ہی زیاں کا ہے
تھا ہی کیا جو کھویا ہے، ہے بھی کیا جو پایا ہے
——
رس اس کے قربِ گرم کا ہے حرف حرف میں
وہ خوش بدن گلاب کھلاتا ہے برف میں
——
میں شادؔ یوں بھی گیا اپنی عمر سے آگے
کہ میرے ساتھ میری حسرتوں کا لشکر تھا
——
عطا سے بات کرو چاندنی سی شبنم سی
خنک نظر ہے مگر دل الاؤ رکھتا ہے
——