معروف مصنفہ بانو قدسیہ کا یومِ وفات February 04, 2…


معروف مصنفہ بانو قدسیہ کا یومِ وفات
February 04, 2017
معروف مصنفہ اور ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں
انہوں نے اُردو اورپنجابی زبانوں میں کئی مقبول ڈرامے بھی لکھے۔ بانو قدسیہ کی مشہور کتابوں میں آتش زیرپا، آدھی بات، ایک قدم، امربیل، آسے پاسے، بازگشت، چہار چمن، دست بستہ، دوسرا دروازہ، فٹ پاتھ کی گھاس، حاصل گھاٹ، ہوا کے نام، کچھ اور نہیں، موم کی گلیاں، ناقابلِ ذکر، پیا نام کا دیا، شہرِ بے مثال، سورج مکھی، تماثیل، توجہ کی طالب شامل ہیں۔ 1981ء میں انہوں نے شہرہ آفاق ناول ’’راجہ گدھ‘‘ تحریر کیا۔ اُردو ادب کی لازوال خدمات پر انہیں سال 2003ء میں ستارہ امتیاز اور سال 2010ء میں بلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
……………..
محترمہ بانو قدسیہ کی یاد میں
الَذینَ انعمتَ علَیہِم کے خوبصورت گروہ کے ایک درویش تشریف فرما تھے لاہور میں، میرے والد صاحب کے حقیقی چچا بھی تھے۔۔۔۔۔ظاہراً تو طبیب تھے مگر اللّٰہُ نے انہیں اس نظَر سے بھی نوازا ہُوا تھا جو نگاہ کہلاتی ہے۔ایک روز مَیں ان کے "مطب” میں بیٹھا ہوا تھا کہ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ (دونوں ہی)آگئے۔دونوں کو وہاں دیکھ کر مجھے حیرت اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ بزرگ مستند حکیم تھے اور اشفاق صاحب اپنے معدے کی کسی ہلکے پُھلکے مسئلے کی دواء کے لئے آئے تھے۔۔ اس محفل میں اکثر مَیں نے منو بھائی ، وجیہہ السیما عرفانی ، علامہ محمد بخش مسلم ، ملک معراج خالد ، ممتاز مفتی ، اور دیگر نامی گرامی صاحبان کو آتے بیٹھتے دیکھا تھا ۔۔۔مشورہ لینے کے بعد اشفاق صاحب اور بانو قدسیہ واپس جانے لگے تو کھانے پینے کے متعلق پرہیز کا پوچھا۔۔۔۔وہ بزرگ جواب میں فرمانے لگے کہ ” پرہیز تو پرہیزگار ہی کرتے ہیں۔۔احتیاط پوچھئے” ۔۔۔۔اشفاق صاحب جاتے جاتے دوبارہ بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔۔بس پِھر کیا تھا سہ پہر میں ساڑھے تین بجے آنے والے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ شام سات بجے واپس گئے۔۔۔۔۔اور لطف کی بات یہ کہ مَیں نے بانو قدسیہ اور اشفاق صاحب کو ایسے دقیق موضوعات پہ استفسار کرتے ہوئے سنا جن کا جواب (انہی کے بقول) انہیں کتابیں بھی نہیں دے پائی تھیں وہاں۔۔۔۔۔منو بھائی دوسرے تیسرے روز حاضر ہوتے تھے۔۔۔۔وہ بھی تشریف لے آئے
پِھر۔۔۔۔۔وہ محفل علمی سوالات کی نشست کی صورت یادگار کہلائی۔۔۔
اشفاق احمد صاحب سے مَیں قبل ازیں فلیٹیز میں ایک تقریب میں کچھ سال پہلے مل چکا تھا ، مگر یہ اشفاق صاحب بہت تبدیل ہو چکے تھے چہرے پہ شیو کی بجائے ہلکی داڑھی نمایاں ہو چکی تھی اور اشفاق احمد کی اس تبدیلی کا اثر بانو قدسیہ کے دوپٹے کے انداز کی صورت میں واضح ہو چکا تھا۔
(حکیم خلیق الرحمٰن)
………