مرے پاس جو ہوتے آسمان کے کاڑھے ہوئے
رُوپہلی سنہری روشنیوں سے بنوائے
راتوں کے، روشنیوں کے اور دھندلکوں کے
کیا کالے ، کیا نیلے ، اور کیا مدھم کپڑے
ترے پیروں تلے مَیں سارے کے سارے بچھا دیتا
میں مفلس ہوں ، مرے پاس ہے کیا خوابوں کے سوا
ترے پیروں تلے مَیں نے خوابوں کو بچھایا ہے
مرے خوابوں پر تُو چلتی ہے ، ذرا ہولے چل!
ترجمہ : یاسر اقبال
He Wishes for Clothes of Heaven
… More
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3050737641823415

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔