مریم نے اسے بلاک کر دیا تھا۔ بارہ سال پہلے میں نے…


💥 مریم نے اسے بلاک کر دیا تھا۔ بارہ سال پہلے میں نے بھی یہی کیا تھا۔ میں باپ بننے کے لیے تیار نہیں تھا 🥹💔

اس نے صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“میں اب تیار ہوں۔ میں اپنے بیٹے سے ملنا چاہتا ہوں۔”

وہ جملہ لکھنے کے بعد تقریباً دس منٹ تک موبائل کی اسکرین دیکھتا رہا۔

پھر بھیج دیا۔

کچھ دیر بعد دو نیلے نشان نمودار ہوئے۔

اس نے موبائل میز پر رکھ دیا۔

پانچ منٹ بعد دوبارہ اٹھایا۔

پروفائل تصویر غائب تھی۔

وہ سمجھ گیا۔

مریم نے اسے بلاک کر دیا تھا۔

بارہ سال پہلے بھی اس نے یہی کیا تھا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ تب اس نے خود کو ان دونوں کی زندگی سے نکال لیا تھا۔

اور آج پہلی بار اسے احساس ہوا کہ بعض دروازے بند کرنے کے بعد دوبارہ کھٹکھٹانے کا حق بھی آدمی کھو دیتا ہے۔

—

بارہ سال پہلے وہ تئیس برس کا تھا۔

ایک نجی کمپنی میں معمولی سی نوکری کرتا تھا۔ تنخواہ اتنی تھی کہ کرائے کا کمرہ، موٹر سائیکل کا پٹرول اور مہینے کا خرچ بمشکل نکلتا۔

مریم نے جب اسے بتایا کہ وہ حاملہ ہے تو وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔

آخر اس نے پوچھا:

“تم کیا چاہتی ہو؟”

مریم نے کہا:

“میں چاہتی ہوں تم میرے ساتھ کھڑے ہو۔”

اس نے نظریں جھکا لیں۔

“مریم، میں باپ بننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔”

“تیار ہونے کے لیے کون سی عمر ہوتی ہے؟”

“مجھے نہیں معلوم۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ میں ابھی نہیں ہوں۔”

مریم اسے دیکھتی رہی۔

اس نے بہت سوچ سمجھ کر کہا:

“میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں صرف اس لیے ہر مہینے کچھ پیسے بھیجتا رہوں اور سمجھوں کہ میری ذمہ داری پوری ہوگئی، یہ مجھے ٹھیک نہیں لگتا۔ اگر میں بچے کے ساتھ نہیں رہ سکتا، اس کی پرورش میں شریک نہیں ہو سکتا، تو چند ہزار روپے میرے ضمیر کو صاف نہیں کریں گے۔”

مریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“اور اگر میں اکیلی رہ گئی تو؟”

وہ خاموش رہا۔

پھر بولا:

“مجھے معاف کرنا۔”

مریم نے اس دن اسے معاف نہیں کیا تھا۔

بس کچھ نہیں کہا تھا۔

اور کبھی کبھی خاموشی، معافی سے زیادہ لمبی سزا ہوتی ہے۔

—

بچہ پیدا ہوا۔

مریم نے اس کا نام حمزہ رکھا۔

اس نے نام کسی سے نہیں پوچھا۔

نہ ہسپتال گیا۔

نہ بچے کو دیکھا۔

نہ کوئی تحفہ بھیجا۔

وہ اپنے فیصلے کو یہی کہہ کر مطمئن کرتا رہا کہ اس نے مداخلت نہ کرکے مریم کو اپنی زندگی دوبارہ بنانے کا موقع دیا ہے۔

کچھ عرصے بعد مریم کی شادی فہد سے ہوگئی۔

فہد جانتا تھا کہ حمزہ اس کا حیاتیاتی بیٹا نہیں ہے۔

لیکن اس نے اسے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی دوسرے آدمی کی اولاد ہے۔

حمزہ کی پہلی سائیکل فہد نے خریدی۔

اس کا داخلہ فہد نے کروایا۔

اس کے اسکول کا پہلا پیرنٹس ڈے فہد نے اٹینڈ کیا۔

رات کو بخار ہوتا تو فہد اٹھتا۔

کرکٹ کھیلتے ہوئے گھٹنا چھل جاتا تو فہد مرہم لگاتا۔

حمزہ نے پہلی بار “ابو” کہا تو فہد نے اسے درست نہیں کیا۔

اس نے صرف اسے سینے سے لگا لیا تھا۔

بارہ سال ایسے ہی گزر گئے۔

اور وہ آدمی؟

وہ بھی بدلتا رہا۔

نوکری بدل گئی۔

تنخواہ بڑھ گئی۔

کرائے کے کمرے کی جگہ اپنا فلیٹ آگیا۔

زندگی میں پہلی بار اسے یہ احساس ہوا کہ اب اگر کوئی بچہ اس کے گھر آئے تو اس کے پاس اسے دینے کے لیے صرف محبت نہیں، وقت بھی ہے۔

تب اسے حمزہ یاد آیا۔

پہلے کبھی کبھار۔

پھر روز۔

پھر ہر اس وقت جب کسی باپ کو اپنے بیٹے کے ساتھ دیکھتا۔

اس نے خود کو سمجھایا:

اب میں تیار ہوں۔

اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔

وہ سمجھ رہا تھا کہ باپ بننے کے لیے صرف تیار ہونا کافی ہے۔

اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ بچے کے لیے باپ صرف وہ شخص نہیں ہوتا جو ایک دن واپس آ جائے۔

باپ وہ بھی ہوتا ہے جو بارہ سال تک جاتا ہی نہیں۔

—

اس نے مریم کو پیغام بھیجا۔

“میں جانتا ہوں کہ بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں آپ کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ کی شادی کا احترام کرتا ہوں۔ میں صرف حمزہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ کوئی حق نہیں مانگ رہا، کوئی جھگڑا نہیں چاہتا۔ صرف ایک ملاقات۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو۔”

پیغام پڑھا گیا۔

پھر بلاک۔

وہ دیر تک موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔

اسے غصہ آیا۔

پھر دکھ۔

پھر غصہ۔

اس نے ایک مشترکہ جاننے والے کو فون کیا۔

اگلے دن اسے جواب ملا:

“مریم کہتی ہے، تم نے بارہ سال پہلے انہیں چھوڑ دیا تھا۔ اب اچانک واپس آکر یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ تم باپ بننا چاہتے ہو۔”

وہ فوراً بولا:

“میں نے چھوڑا نہیں تھا۔ میں نے صاف کہا تھا کہ میں تیار نہیں ہوں۔”

دوسری طرف خاموشی رہی۔

پھر دوست نے کہا:

“تمہاری نیت شاید یہی تھی۔ لیکن مریم نے جو برداشت کیا، وہ تمہاری نیت سے مختلف تھا۔”

وہ کچھ دیر خاموش رہا۔

پھر بولا:

“تو کیا آدمی کو ہمیشہ ایک ہی غلطی کی سزا ملتی رہتی ہے؟”

دوست نے کہا:

“شاید غلطی یہ نہیں تھی کہ تم تیار نہیں تھے۔ شاید غلطی یہ تھی کہ تم نے سمجھا، تمہارے چلے جانے سے صرف تمہاری زندگی رکے گی۔”

—

اس رات اسے پہلی مرتبہ نیند نہیں آئی۔

وہ اپنے ماضی کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے مریم کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔

ایک حاملہ عورت۔

اس کے سامنے تئیس سال کا ایک لڑکا۔

وہ لڑکا کہہ رہا ہے:

“میں باپ نہیں بن سکتا۔”

پھر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔

اس کی پہلی رات۔

پہلا بخار۔

پہلا قدم۔

پہلا لفظ۔

پہلا اسکول۔

پہلی سائیکل۔

پہلا انعام۔

پہلا خوف۔

پہلی بار دل ٹوٹنا۔

ان سب کے درمیان وہ کہاں تھا؟

اس سوال کا جواب بہت آسان تھا۔

کہیں نہیں۔

اس نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ غیر حاضر رہنا بھی ایک طرح کی موجودگی ہے۔

آپ کسی کی زندگی میں نہ ہوں، تب بھی آپ کی غیر موجودگی اس زندگی کی ساخت بدل دیتی ہے۔

—

چند دن بعد اس نے ایک اور راستہ اختیار کیا۔

اس نے فہد کا نمبر حاصل کیا۔

کافی دیر تک کال کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

آخرکار فون ملایا۔

فہد نے کال اٹھائی۔

“جی؟”

“میں… حمزہ کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔”

دوسری طرف چند سیکنڈ خاموشی رہی۔

پھر فہد نے پوچھا:

“آپ کیا چاہتے ہیں؟”

“صرف ایک ملاقات۔”

“حمزہ جانتا ہے آپ کے بارے میں؟”

وہ رک گیا۔

“نہیں۔”

فہد نے آہستہ سے کہا:

“تو پھر آپ کیا سوچ کر آئے ہیں؟”

“میں سچ بتانا چاہتا ہوں۔”

“کون سا سچ؟”

وہ خاموش رہا۔

فہد نے کہا:

“یہ کہ آپ اس کے حیاتیاتی والد ہیں؟”

“جی۔”

“اور پھر؟”

وہ جواب نہ دے سکا۔

فہد نے مزید کچھ نہیں کہا۔

کافی دیر بعد صرف اتنا بولا:

“میں آپ سے دشمنی نہیں رکھتا۔ لیکن میرے لیے یہ صرف دو بالغ آدمیوں کا معاملہ نہیں ہے۔ درمیان میں ایک بچہ ہے۔”

“وہ اب بچہ نہیں رہا۔”

“میرے لیے تو ہے۔”

کال ختم ہوگئی۔

—

دو دن بعد اسے ایک نامعلوم نمبر سے پیغام آیا۔

“آپ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں؟”

اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

اس نے لکھا:

“اگر تم مناسب سمجھو۔”

جواب آیا:

“امی نے بتایا ہے کہ آپ میرے والد ہیں۔”

اس نے کافی دیر تک اسکرین دیکھی۔

پھر لکھا:

“ہاں۔”

کچھ لمحوں بعد جواب آیا:

“لیکن میرے ابو فہد ہیں۔”

اس نے موبائل نیچے رکھ دیا۔

کمرے میں خاموشی تھی۔

وہ جانتا تھا کہ اسے کیا کہنا چاہیے۔

میں تمہارا اصل باپ ہوں۔

مگر یہ جملہ اچانک اسے بہت چھوٹا محسوس ہوا۔

اس نے صرف لکھا:

“ہاں، وہ تمہارے ابو ہیں۔”

کافی دیر کوئی جواب نہ آیا۔

پھر ایک سوال آیا:

“آپ بارہ سال کہاں تھے؟”

اس کے پاس بہت سے جواب تھے۔

میں چھوٹا تھا۔

میں تیار نہیں تھا۔

میرے حالات خراب تھے۔

میں تمہاری ماں کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

میں تمہیں آدھا باپ نہیں دینا چاہتا تھا۔

لیکن ان سب جوابوں کے نیچے ایک ہی حقیقت پڑی تھی۔

وہ وہاں نہیں تھا۔

اس نے لکھا:

“میں غلط تھا۔”

دوسری طرف سے فوراً جواب آیا:

“امی کہتی ہیں آپ نے خود فیصلہ کیا تھا کہ آپ نہیں آنا چاہتے۔”

اس نے لکھا:

“ہاں۔”

“کیوں؟”

وہ بہت دیر تک ٹائپنگ باکس کو دیکھتا رہا۔

پھر لکھا:

“کیونکہ میں ڈرتا تھا کہ میں اچھا باپ نہیں بن سکوں گا۔”

کچھ دیر بعد جواب آیا:

“اب بن سکتے ہیں؟”

اس نے پہلی مرتبہ مسکرا کر لکھا:

“پتا نہیں۔ لیکن کوشش کرنا چاہتا ہوں۔”

اس بار جواب آنے میں زیادہ وقت لگا۔

پھر صرف ایک جملہ آیا:

“کوشش میں بارہ سال نہیں لگتے۔”

اس نے موبائل بند کر دیا۔

یہ جملہ کسی عدالت کے فیصلے کی طرح تھا۔

—

ایک ہفتے بعد مریم نے خود اسے فون کیا۔

“حمزہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔”

اس نے آنکھیں بند کرلیں۔

“کہاں؟”

“کسی عوامی جگہ پر۔”

“ٹھیک ہے۔”

“اور ایک بات۔”

“جی؟”

“آپ اسے کچھ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔”

وہ سمجھ گیا۔

“نہیں کروں گا۔”

اتوار کی شام وہ ایک خاموش سے کیفے میں بیٹھا تھا۔

حمزہ سامنے آکر بیٹھ گیا۔

لمبا، دبلا، بال ماتھے پر گرے ہوئے۔

اس نے اسے دیکھا تو پہلی بار اسے اپنے چہرے میں کوئی مماثلت تلاش کرنے کا خیال آیا۔

پھر فوراً خود کو روک لیا۔

یہ مماثلت اس لڑکے کے لیے شاید کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔

حمزہ نے پوچھا:

“آپ مجھے دیکھنا کیوں چاہتے تھے؟”

اس نے کہا:

“کیونکہ میں تمہیں جاننا چاہتا ہوں۔”

“کیوں؟”

“کیونکہ تم میرے بیٹے ہو۔”

حمزہ نے فوراً کہا:

“یہ بات مجھے معلوم ہے۔”

وہ خاموش ہوگیا۔

حمزہ نے پانی کا گلاس اٹھایا۔

“لیکن آپ میرے ابو نہیں ہیں۔”

اس نے سر ہلایا۔

“میں جانتا ہوں۔”

یہ سن کر حمزہ شاید پہلی بار حیران ہوا۔

“آپ ناراض نہیں ہیں؟”

وہ ہلکا سا مسکرایا۔

“نہیں۔”

“کیوں؟”

اس نے بہت آہستہ کہا:

“کیونکہ تم نے کوئی غلطی نہیں کی۔”

دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔

پھر حمزہ نے پوچھا:

“آپ دوبارہ آئیں گے؟”

اس سوال نے اسے اندر تک ہلا دیا۔

اس نے فوراً جواب نہیں دیا۔

پھر کہا:

“اگر تم چاہو تو۔”

حمزہ نے کہا:

“میں نے یہ نہیں پوچھا کہ میں چاہتا ہوں یا نہیں۔”

وہ چونکا۔

حمزہ نے گلاس میز پر رکھا۔

“میں پوچھ رہا ہوں… آپ اس بار جائیں گے تو واپس آئیں گے؟”

وہ اس سوال کا جواب دینے کے لیے شاید پوری زندگی سے تیار ہو رہا تھا۔

مگر اس کے پاس پھر بھی کوئی خوبصورت جملہ نہیں تھا۔

اس نے صرف کہا:

“ہاں۔”

حمزہ نے سر ہلایا۔

“ٹھیک ہے۔”

اور پہلی ملاقات ختم ہوگئی۔

نہ گلے ملنا ہوا۔

نہ آنسو بہے۔

نہ کوئی فلمی معافی۔

بس وہ اٹھا اور دروازے کی طرف چل دیا۔

جاتے جاتے اس نے مڑ کر کہا:

“اگلے اتوار کرکٹ کھیلنے جائیں گے؟”

وہ چند سیکنڈ اسے دیکھتا رہا۔

پھر مسکرایا۔

“اگر تم چاہو۔”

حمزہ نے کہا:

“میں نے ابھی کہا نا۔”

وہ چلا گیا۔

وہ دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔

—

اگلے اتوار وہ وقت سے پہلے پارک پہنچ گیا۔

وہاں ایک آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا۔

وہ گیند پھینکتا۔

لڑکا چوکا مارتا۔

دونوں ہنستے۔

کچھ دیر بعد حمزہ آیا۔

اس نے دور سے ہاتھ ہلایا۔

“ابو نہیں آئے؟”

وہ رک گیا۔

پھر بولا:

“نہیں۔ آج صرف میں ہوں۔”

حمزہ مسکرایا۔

“اچھا ہے۔”

انہوں نے کرکٹ شروع کردی۔

پہلی گیند اس نے جان بوجھ کر آسان پھینکی۔

حمزہ نے زور سے شاٹ مارا۔

گیند بہت دور جا گری۔

حمزہ بھاگتا ہوا اسے لینے گیا۔

وہ اسے دیکھتا رہا۔

اسے اچانک خیال آیا کہ بارہ سال پہلے وہ ایک بچے کو کھونے سے ڈر رہا تھا۔

آج اسے معلوم ہوا تھا کہ بچہ کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔

وہ صرف اس کا باپ بننے کی عمر سے گزر گیا تھا۔

اب اسے باپ بننے کے لیے دعویٰ نہیں، وقت دینا تھا۔

اور شاید یہی سب سے مشکل حصہ تھا۔

کیونکہ عدالت شاید خون کا رشتہ تسلیم کرلے۔

نام شاید کاغذ پر لکھا جا سکتا ہے۔

لیکن کسی بچے کے دل میں “ابو” کی جگہ…

وہ بارہ سال کی غیرحاضری سے واپس نہیں ملتی۔

وہ صرف ایک ایک اتوار سے بنتی ہے۔

ایک ایک فون کال سے۔

ایک ایک انتظار سے۔

ایک ایک وعدہ پورا کرنے سے۔

اس نے گیند اٹھائی۔

حمزہ کی طرف پھینکی۔

اس بار اس نے جان بوجھ کر گیند بہت دور نہیں پھینکی۔

بس اتنی کہ لڑکا دوڑ کر اسے پکڑ سکے۔

حمزہ ہنسا۔

اور وہ بھی۔

بارہ سال میں پہلی بار اسے لگا کہ شاید کچھ چیزیں واپس نہیں ملتیں۔

مگر کچھ چیزیں…
دوبارہ بنائی جا سکتی ہیں۔

افسانہ: واپسی
©️ انتخاب سخن

#parenting #relationships #fatherandson