مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی 1967 – 1885 1942ء م…


مرزا جعفر علی خاں
اثر لکھنوی
1967 – 1885
1942ء میں اثر لکھنوی نے گوئیٹے کی ایک نضم کا ترجمہ کیا تھا جو ان کے کیۓ ہوے ترجموں کے مجموعہ ‘ رنگ بست ‘ میں شامل ہے

سلطانِ اجل
کون دوڑاتا ہے جنگل میں یہ گھوڑا سرپٹ ؟
باپ چھاتی سے لگاۓ ہوۓ ہے بیٹے کو
سر ہے نیہوڑا ہوا سینے پہ ، گلے میں بانہیں
تاکہ سردی سے بچے گھوڑے سے گر بھی نہ سکے
” دیکھیۓ ، دیکھیۓ ، وہ ، اس طرف ، ابّا ، ابّا
” کیوں ہے سہما ہوا ، آتا ہے نظر کیا بیٹا ؟
” آہ سلطانِ اجل آیا مع تاج و کفن ”
نہیں فرزند ، فقط ابر کا اک ٹکڑا ہے
( سلطانِ اجل کہتا ہے )
آ مرے ساتھ چل اے ننھے جھنڈولے بچے
کھیل؛ اور کود میں دل تیرا وہاں بہلے گا
میری ماں دے گی کھلونے تجھے اچھے اچھے
پھول بھی رنگ برنگے ہیں وہاں تیرے لۓ
کیا نہیں تم نے سنا ، سنتے ہو پیارے ابّا
کان میں میرے جو سلطسنِ اجل کہتا تھا ؟
چپ رہ اور خوف نہ کھا میرے جگر کے ٹکڑے
تیز جھونکا تھا ہوا کا جو ادھر سے گزرا
( سلطانِ اجل کہتا ہے )
کیا مرے ساتھ چلے گا مرے پیارے بچے
میری لڑکی بہت آرام سے رکھے گی تجھے
گود میں تجھ کو لۓ سیر کراۓ گی خوب
پانی اور ٹھنڈ سے جنگل میں محافظ ہوگی
پیار کرتی رہے گی ہنس کے گلے مل مل کے
اور سناۓ گی تجھے گیت بھی میٹھے میٹھے
————
تم نے دیکھا نہیں ، آتی تھی نظر صاف ، ابّا
بال کھولے ہوۓ سلطانِ اجل کی لڑکی
مینہ میں رینگتی اس سمت سے گزری ہے ابھی
آ مری پونجی بہت اچھی طرح دیکھا تھا
چاند کے سامنے تھی رقص، کناں بید کی شاخ
———————-
( سلطانِ اجل کہتا ہے )
چل مرے ساتھ بس اب چل کہ ہوئ دیر بہت
نہیں تو کھینچ کے لے جاؤں گا ناداں بچے
—————
مجھ کو مظبوط سنبھالے رہو ابّا ابّا
آہ سلطانِ اجل چھینے لۓ جاتا ہے
ہاتھ ٹھنڈے ہیں بہت ، ہاۓ کلیجا ٹھٹھرا
———
باپ تھرا گیا اور گھوڑے کو مہمیز کیا
ہاتھ کا حلقہ کیا چوم کے منہہ بچے کا
اپنے مسکن پہ وہ پہنچا یونہی لرزاں ترساں
بچہ آغوش میں اب تک تھا —– مگر مردہ
گوئٹے
1942ء
میر جعفر علی خان اثر
رنگ نسنت
….
بشکریہ وسیم سیّد