اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

”مرد کتنے عجیب ہوتے ہیں۔وہ عمر بھر پادریوں کے خلاف…

”مرد کتنے عجیب ہوتے ہیں۔وہ عمر بھر پادریوں کے خلاف لڑتے ہیں اور تحفے میں دعاؤں کی کتاب لے کر آتے ہیں”

گیبریل گارشیا مارکیز نے یہ ناول" تنہائ کے سو سال ” دنیا و مافیا سے کٹ کر وجد میں مبتلا ہوکر لکھی ہو گی ۔جب ادب کا کوئ بھی حصہ نوبل انعام کا مستحق قرار پاتا ہے تو یقیناً اسمیں کوئ غیر معمولی بات ہوتی ہے۔یہ ناول بھی ایک شاہکار ہے۔ اس ناول کے بارے میں میلان کنڈیرا نے کہا ہے کہ" مارکیز کے اس ناول کے ہوتے ہوئے ناول کی موت کے بارے میں اعلان کرنا مخص بکواس ہے". بے شک یہ ایک مشکل ناول ہے لیکن ایک دفعہ اس میں داخل ہوجائیں اور اسمیں محو ہوجائیں پھر اس سے نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔میرے خیال میں اس ناول کو جب کوئ پڑھے تو صرف یہی کام کرے کیونکہ یہ آپ کو اپنے سحر سے نکلنے نہیں دیتی اور کچھ اور کرنے نہیں دیتی.اسکے الفاظ جملے اور کردار لفظ بہ لفظ تنہائ ہیں۔۔۔۔۔۔کچھ پہلو ایسے ہیں اسمیں جو مجھ جیسے ادب سے عاری لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں کہ بار بار انکی تکرار کی گئ لیکن کہانی کی ضرورت ہے۔۔۔یہ ”ماکوندو " بستی کو آباد کرنے والے جوزے ارکیدو بوئندا کے کا خاندان کے نشیب و فراز کی کہانی ہے جسمیں ہر شخص اپنے حصے کی تنہائ جھیلتا ہے ۔چاہے وہ چھوٹی سی ریمینڈس کی ارلیانو سے شادی کے بعد موت ہو یا ارلیانو کی تنہائ ہو امرانتا کا اپنی محبت جسکو پانے کے لیے اس نے کیا کیا جتن نہ کئے سے انکار اور پھر اسکی موت کے بعد سے اپنی موت تک ہاتھ میں کالی پٹی باندھنا ہو یا دن کو اپنا کفن سینا اور رات کو ادھیڑنا ہو کہ وہ جانتی تھی کہ جس دن اسکا کفن تیار ہوگا وہ مرجائیگی اور ہوا بھی یہی۔چاہے وہ خوبصورت ریمنڈس کا آسمانوں میں اُڑجانا ہو یا ارلیانو کا عمر کے آخری حصے میں نقرئ مچھلیاں بنانا اور پگھلانا ہو۔یہ کہانی ہے ارکیدو کی بیوی ارسلا کی 100 سالہ ازدواجی زندگی کی جسمیں وہ اپنے خاندان کو پروان چڑھاتی ہے اور اسی خاندان کے زوال کو دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھوں کی روشنی ختم ہوجاتی ہے یہ کہانی ہے جوزے ارکیدو اور ملکیادیس کی مابین علمی ارتقائ سفر کے۔۔۔۔اس کہانی کو پڑھنے کے بعد انسان اپنی اصلی کیفیت میں نہیں رہتا۔اور اس بھول بھولیاں میں کھوجاتا ہے۔۔۔۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3010603752503471