مرتضیٰ برلاس
سال یہ بیت گیا رنج کا آلام کا سال
امن عالم کی جو تھی خواہش ناکام کا سال
جس میں کھیلی گئی بس خون کی ہولی ہر سو
آج گزرا ہے وہی کرب کا کہرام کا سال

مرتضیٰ برلاس
سال یہ بیت گیا رنج کا آلام کا سال
امن عالم کی جو تھی خواہش ناکام کا سال
جس میں کھیلی گئی بس خون کی ہولی ہر سو
آج گزرا ہے وہی کرب کا کہرام کا سال
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔