”مخزنِ راز“ گرو اوشو رجنیش ”…اگر آپ اس تلاش …
”مخزنِ راز“
گرو اوشو رجنیش
”…اگر آپ اس تلاش میں کامیاب ہوگئے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کا جسم ایک مجموعہ ہے. آپ کا کچھ حصہ آپ کی ماں کی طرف سے آیا ہے، کچھ حصہ باپ کی طرف سے اور باقی سب کچھ کھانے پینے سے. یہ آپ کا کل جسم ہے. اس جسم کے اندر 'آپ' تو نہیں ہیں. کوئی ذات نہیں ہے. ذہن پر زور دیجیے، کچھ یہاں سے آیا ہے، کچھ وہاں سے آیا. کوئی چیز بھی اصلی نہیں ہے. سب کچھ مختلف چیزوں کا ایک ڈھیر ہے.
تلاش کریں کہ دماغ میں تو کوئی ذات نہیں ہے؟ اگر آپ بہت گہرائی میں چلے جائیں تو دیکھیں گے کہ آپ کی پہچان ایک پیاز کی طرح ہے. آپ ایک چھلکا اُتاریے تو دوسرا آ جائے گا. دوسرا اُتاریے، تیسرا آ جائے گا اور آخر کار کچھ بھی نہیں بچے گا. تمام چھلکے آُتار دیجیے، اندر سے کچھ برآمد نہیں ہوگا. جسم اور دماغ، پیاز کے مانند ہیں. آپ دونوں کو چھیلتے جائیے تو اندر سے کچھ نہیں نکلے گا، سوائے ایک مہیب اور لامحدود خلا کے، جس کو بُدھا نے 'شُنیہ' یعنی صفر کہا ہے.
اس صفر کو، اس مہیب خلا کو فتح کرنا خوف کو جنم دیتا ہے. خوف اصل میں یہاں ہے. یہی وجہ ہے کہ ہم استغراق سے گُریز کرتے ہیں. اس کے بارے میں باتیں ضرور کرتے ہیں لیکن اس سَمت میں کوئی عملی قدم نہیں اُٹھاتے، آپ کو پکّا یقین ہے کہ وہاں ایک لامحدود خلیج ہے، مگر اس خوف سے چُھٹکارا نہیں پاتے. آپ جو چاہیں کرلیں، خوف باقی رہے گا. جب تک آپ اس پر قابو نہیں پا لیتے. بس یہی ایک طریقہ ہے. اگر ایک بار آپ اپنے عدم کو فتح کر لیں، جب ایک بار آپ کو علم ہو جائے کہ آپ کے اندر ایک خلا ہے، ایک صفر ہے، تب آپ کو کوئی خوف نہیں رہے گا. اس کے بعد خوف باقی نہیں رہ سکتا، کیونکہ یہ صفر، یہ خلا تباہ نہیں کیا جا سکتا. یہ خلیج پاٹی نہیں جا سکتی. وہ جس کو موت آ سکتی تھی، اب باقی نہیں، اس کی حیثیت پیاز کے چھلکے جیسے تھی…“
ایک لیکچر کے ترجمے سے اقتباس
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2880259095537938