اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

مختار احمد شمیم کا یومِ پیدائش 23 March 1944 آج – …


مختار احمد شمیم کا یومِ پیدائش
23 March 1944
آج – 23؍مارچ 1944
(23؍مارچ 1944ء – 02؍دسمبر 2020ء )
….
منتخب کلام
میں زندگی کے ہزاروں عذاب جھیل گیا
عذاب کیا ہیں میں کتنے ہی خواب جھیل گیا
یہ پیاس دھوپ سفر دشت اور میں تنہا
غنیم وقت کا اک اک حساب جھیل گیا
میں اپنے آپ سے مل کر بہت پشیماں ہوں
بچھڑتے رہنے کا پیہم عذاب جھیل گیا
افق افق وہ مگر مہر و مہ اچھالے ہے
میں زخم زخم کئی آفتاب جھیل گیا
وہ اک صدا تھی کہ صدیوں کی گونج تھی مجھ میں
اس ایک لمحہ میں کیا انقلاب جھیل گیا
اکھڑ ہی جائے گا اب سائبان روز و شب
شمیمؔ بوجھ تو زور‌ طناب جھیل گیا
……..
نامۂ گل میں کسی شوخ کی تحریر کا رنگ
دل پر خوں کی ابھرتی ہوئی تصویر کا رنگ
وہ تہی مایہ پشیمان وفا ہیں ہم لوگ
اپنی تقریر میں جادو ہے نہ تحریر کا رنگ
سبز در سبز درختوں میں چلا آگ کا پھاگ
اجلا اجلا ہے مرے خواب کی تعبیر کا رنگ
قتل ہونا ہے سر شام تمنا ہر روز
روز لانا ہے نئی صبح کی تنویر کا رنگ
رنگ دیتا ہے کہیں آئنۂ نام و نمود
خوب کھلتا ہے کہیں جوہر‌ توقیر کا رنگ
……
سخن سخن جو کسی کرب سے عبارت تھا
میں لفظ لفظ خود اپنی ہی تو حکایت تھا
خیال وہم کی صورت بھی کیا حقیقت تھا
وہ دور دور تھا تو کتنا خوبصورت تھا
ہر اک بنام محبت خلوص کی خاطر
ہر ایک دوسرے کے واسطے مصیبت تھا
وجود لفظ و معانی سکون جاں کہیے
خود اپنی ذات میں ہر حرف اک اذیت تھا
لپکتے شعلوں میں جلتے رہے خطوط مگر
اک ایک حرف پکارا ہے میں محبت تھا
اسے درازئ قد پر بہت غرور ہوا
سنا ہے اس میں بھی پہلو حصول شہرت تھا
ہزار اس سے خفا ہوں برا کہیں لیکن
شمیمؔ شخص تھا کیا خوب دم غنیمت تھا
……………………….