مجید اختر کی سالگرہ پر ان کے خوبصورت کلام سے متفرق انتخاب
August 08
–
وحدت۔ کُل، مری کمی میں آ
میرے اثبات یا نفی میں آ
ْ
بہشت۔ نعت۔ محمد میں ہیں قدم رکھے
خدائے احمد۔ مرسل مرا بھرم رکھے
ْ
نہ شہر۔ علم کی دیوار پھاندئیے صاحب
یہ باب۔ علم بنا ہے یہاں اسی کے سبب
۔
میں اسلئے بھی تو سر کو جھکائے رکھتا ہوں
کہ میرے شانے پہ دست۔ سخا حسین کا ہے
۔
دولت۔ نام و نسب، علم و ہنر سب تھا مگر
جاں سے گذرے تو بچا نام و نشاں کچھ بھی نہیں
۔
کتنے جی جان سے ، محنت سے کمایا تھا اسے
اب یہ جانا کہ یہ اسباب۔ جہاں کچھ بھی نہیں
۔
یہ انہماک تو مشکل میں مجھ کو ڈال گیا
وہ سن نہیں رہی ، سحربیاں میں کھو گئی ہے
۔
نظر میں رکھ مرے اظہار کی ضرورت کو
کبھی تو نون کا اعلان بھی روا کیا کر
۔
عجب شجر تھاکہ گرکر بھی سب کے کام آیا
قلم کسی نے کسی نے عصا تراش لیا
۔
اور پھر رائیگاں پانی کی طرح بہہ نکلا
اک گہر دیدہء نمناک میں رکھے رکھے
۔
آج اک اور پرندے کو رہائی دے دی
دستبردار ہوا دل کی نگہبانی سے
۔
ایک الزام تھوڑی ہوتا ہے
مفت میں نام تھوڑی ہوتا ہے
۔
وقت ملنے پہ کر لیا جائے
عشق آرام تھوڑی ہوتا ہے
۔
اندھیری رات میں دیکھے گئے ہیں
ابھرتی روشنی کے خواب سارے
۔
بہت چھوٹا سا کتبہ قبر پر ہے
کہاں لکھئیے گا یہ القاب سارے
۔
گرچہ کاغذ پر چسپاں ہے
تتلی کے پر کھلے ہوئے ہیں
۔
لہو سے کہتا ہوں جا کے مقتل میں سُرخرُو ہو
رگوں میں اتنا فشار کرنے سے کیا ملے گا
۔
محبت میں دلوں پر جانے کب یہ سانحہ گزرا
جگہ شک نے بنالی اور ہمارے درمیاں وہ بھی
۔
صاف پانی سے اسے سینچ، یہاں زہر نہ گھول
دیکھ یہ نخل۔ وفا میرا لگایا ہوا ہے
۔
اتنا تو وقت دے کبھی خود سے کروں مکالمہ
اے میری عمر۔ تیز رو ایسے مجھے بسر نہ کر
۔
حاصل_زندگی، یہی دونوں
روشنی کا دیا، گلاب کا پھول
۔
بلندیوں پہ اڑانوں کا مرحلہ مری جاں
بس ایک جست ہے، شاخ۔ شجر سے باہر دیکھ
۔
ہم عجب لوگ ہیں ہم سے تو ابھی پوری طرح
کار۔ الفت نہ ہوا کار۔ جہاں کیسے ہو
۔
کتنا بے لوث تھا بچپن میرا
کتنے سادہ تھے کھلونے میرے
۔
ایسا نہ ہو میں ضبط کی سرحد سے گذر جاؤں
اک شعلہ نوا خاک کے پیکر سے نکل آئے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔