مجھے پروا نہیں ہو گی
شاعرہ:سارہ ٹیزڈیل (امریکا)، مترجم: رومانیہ نور (ملتان)
جب میں جاں سے گزر جاؤں
اور مجھ پر اپریل کی تابانی
اپنی بارش میں بھیگی زلفیں جھٹکے گی
اگر تم مجھ سے لپٹنا بھی چاہو شکستہ دل سے
تو مجھے پروا نہیں ہو گی
مجھے سکون ملے گا ، یوں جیسے
برگ پوش اشجار سکون پاتے ہیں
جب بارش شاخ کو خمیدہ کرتی ہے۔
اور میں اس سے کہیں بڑھ کر
چُپ اور بے مروت ہو جاؤں گی
جتنے سرد مہر تم اب ہو
نوٹ:
سارہ ٹیزڈیل ایوارڈ یافتہ مشہور امریکی شاعرہ تھیں۔ 1933ء کو 48 برس کی عمر میں زائد از مقدار خواب آور گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
افسردہ اور مایوس کن لہجے کی وجہ سے اس نظم کے بارے میں بالعموم یہ رائے مشہور ہے کہ یہ سارہ ٹیزڈیل کا خودکشی کا نوٹ ہے جو اس نے اپنے سابقہ پریمی کے نام لکھا تھا۔ مگر یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ سارہ نے اس نظم کی اشاعت کے 18 سال بعد خودکشی کی۔
Original Version:
I shall not Care
BY SARA TEASDALE
When I am dead and over me bright April
Shakes out her rain-drenched hair,
Tho' you should lean above me broken-hearted,
I shall not care.
I shall have peace, as leafy trees are peaceful
When rain bends down the bough,
And I shall be more silent and cold-hearted
Than you are now.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2833399506890564

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔