منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

مایا اینجلو (Maya Angelou) مایا اینجلو (April …


مایا اینجلو (Maya Angelou)

مایا اینجلو (April 4, 1928 – May 28, 2014) معاصر ادب کی بے حد توانا اور ایک قابلِ ذکرآواز گردانی جاتی ہے۔ اسے سیاہ فام قبیلے کی نوابی شاعرہ مانا جاتا ہے اور اُس کی نظموں کو افریکی نژاد امریکیوں کے ترانے کہا جاتا ہے۔
مایا اینجلو کو بطور شاعرہ، مصنّفہ، ایکٹریس اور گلوکارہ کے جانا پہچانا گیا ہے۔ اس کے کریڈٹ پر اس کی خود نوشت ( Autobiographies ) کی سات کتابیں، مضامین کی تین کتابیں، اور شاعری کی کئی کتابیں ہیں۔ مایا اینجلو کو درجنوں ایوارڈز مل چکے ہیں اور پچاس سے زائد اعزازی ڈگریاں نوازی گئی ہیں۔
بعض تنقید نگاروں کے نزدیک مایا کی خود نوشت سیریز اُن کی شاعری سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر اُس کی شاعری اور نثر کا موازنہ کیا جائے تو اُس کی شاعری کو اس کی نثر کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
اس کی پہچان ان کی خود نوشت کی سات کتابیں ہیں۔ اُس سیریز کی پہلی کتاب "میں جانتی ہوں کہ مقید پرندہ کیوں گاتا ہے” اُن کے بچپن اور نوجوانی کے تجربات پر مبنی ہے۔
مایا کا تعلق ایک نہایت غریب خاندان سے تھا۔ ماں کی مالی اور معا شی مجبوری کے سبب اس کو آٹھ سال تک اپنی نانی کے پا س رہنا پڑا۔ آ ٹھ سال کی عمر میں جب مایا اپنی ماں کے پاس واپس آئی تو سوتیلے باپ کے وحشیانہ سلوک نے اُسے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ یہ ریپ کا سانحہ تھا جس کا ماتم وہ چھ سال تک اپنے اندر کے بین کرتے سناٹوں میں کرتی رہی۔
مایا اینجلو کی پیدائش ایک غریب خاندان میں ہونے کے ساتھ ساتھ اُس دور کی ہے جب گوروں نے کالوں کی زندگی کو انکے اپنے لئے ہی شرمندگی کا باعث بنا رکھا تھا اور انکے سا تھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ ما یا اینجلو کا حسّاس وجود دوہری قیامت سے گزر رہا تھا۔ وہ اپنی قوم اور اپنی ذات سے برتی جانے والی ذلّت کی چنگاریون کو جوڑ جوڑ کے آ گ بنا تی رہی اور اندر ہی اندر اس آگ کو ہوا دیتے ہوئے بھڑکاتی رہی ۔ اُس نے اپنی ذات کے سارے فیصلے خود لکھے۔ چاہے وہ خود کو بدلنے کا فیصلہ تھا، چاہے وہ معا شرے میں اپنے سیاہ فام لوگوں کی قسمت کو بدل دینے کا فیصلہ رہا یا پھر اپنے وجود کو نا قابلِ تسخیر اور نا قابِل فراموش بنا دینے کا فیصلہ مگر اپنی ذات سے جُڑا ہر فیصلہ اُس کا اپنا فیصلہ تھا۔
ایسا نہیں کہ اس کی شاعری کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا بلکہ وہ ایک بارآور اور کامیاب شاعرہ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ اُس نے بطور سیاہ فام شاعرہ 1993ء میں سابق صدر بل کلنٹن کی افتتاحی تقریب میں اپنا کلام "On the Pulse of Morning” پیش کیا تھا۔

ناہیدؔ ورک


بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2151906935039828