اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

"لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی” اِک عُمر بعد اس کو دیکھ…


"لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی”

اِک عُمر بعد اس کو دیکھا!

آنکھوں میں سوال تھے ہزاروں
ہونٹوں پہ مگر وہی تبسّم!
چہرے پہ لکھی ہوئی اُداسی
لہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤ
آواز میں گونجتی جدائی
بانہیں تھیں مگر وصال ساماں!

سمٹی ہوئی اس کے بازوؤں میں
تادیر میں سوچتی رہی تھی
کس ابرِ گزیر پا کی خاطر
کس چھاؤں کو ترک کر دیا تھا

میں اُس کے گلے لگی ہوئی تھی
وہ پُونچھ رہا تھا مرے آنسو
لیکن بڑی دیر ہو چکی تھی!

محترمہ سیّدہ پروین شاکر

از:-اِنکار ص ۹۹

انتخاب
سفیدپوش