پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں بہادر شاہ ظفر ل…


لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
بہادر شاہ ظفر

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
……….
قمر جلالوی
چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرتِ دیدار میں
اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں
دم نکل جائے گا حسرت نہ دیکھ اے نا خدا
اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں
دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی
صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں
فصلِ گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا
میں نے جب نالے کئے بجلی گری گلزار میں
جل گیا میرا نشیمن یہ تو میں نے سن لیا
باغباں تو خیریت سے ہے صبا گلزار میں
………….
احمد علی برقیؔ اعظمی
ارمان اپنے مِل گئے سارے غبار میں
’’دو گز زمیں بھی مِل نہ سکی کوئے یار میں‘‘
آیا نہ وہ بھی پُرسشِ احوال کے لئے
کردی متاعِ شوق فدا جس کے پیار میں
معلوم ہے نہ آئے گا وعدہ شکن مگر
ہیں اب بھی اپنے دیدہ و دل انتطار میں
ہم چاہتے ہوئے بھی نہ اُس کو بُھلا سکے
اب کیا کریں جو دل ہی نہ ہو اختیار میں
میں تجھ سے کیا بتاؤں نہیں سن سکے گا تو
سوزِ ردروں ہے کتنا دلِ داغدار میں
شیرازۂ حیات کیا اس نے منتشر
ہم تو بکھر کے رہ گئے بس اعتبار میں
دشمن کو بھی نصیب نہ ہو ہے یہی دعا
ہم کو ملی ہے جیسی سزا اس کے پیار میں
ہوتی ہے صبر و ضبط کی بھی کوئی ایک حد
گُھٹ گُھٹ کے مر نہ جائیں یونہی انتظار میں
تیرِ نگاہِ ناز سے وحشت زدہ ہوں میں
کردے نہ کام ختم مرا ایک وار میں
برقیؔ دیارِ شوق میں جاتے تو ہو مگر
رکھنا ذرا سنبھل کے قدم کوئے یار میں
……